منگل 14 ذو القعدہ 1440 - 16 جولائی 2019
اردو

قسم كے كفارہ ميں ايك مسكين كو دس بار كھانا كھلانا كافى نہيں

13788

تاریخ اشاعت : 20-09-2005

مشاہدات : 3350

سوال

كيا ميرے ليے قسم كا كفارہ ايك ہى مسكين كو دينا جائز ہے، يعنى ميں اسے دس بار كھانا كھلا دوں، يا دس مسكينوں كو ہى كھانا كھلانا ہوگا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

ايك ہى مسكين كو كفارہ كا كھانا بار بار كھلانے سے كفارہ ادا نہيں ہو گا.

قسم كے كفارہ ـ اور دوسرے كفاروں ـ ميں مساكين كى اس تعداد كا خيال ركھنا چاہيے جو نص ميں وارد ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى اپنى كتاب المغنى ميں كہتے ہيں:

" جب كفارہ دينے والا شخص مساكين كى پورى تعداد پالے تو قسم كے كفارہ ميں دس مسكينوں سے كم كو اور ظہار اور رمضان ميں جماع كے كفارہ ميں ساٹھ مسكينوں سے كم كو كھانا دينے سے كفارہ ادا نہيں ہوگا، امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كا يہى قول ہے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

تو اس كا كفارہ دس مسكينوں كو كھانا دينا ہے .

اور جس نے ايك كو ہى كھانا ديا اور دس كو نہ ديا تو اس نے اللہ تعالى كے حكم پر عمل نہيں كيا، اس ليے وہ كفايت نہيں كرے گا اور ادا نہيں ہوگا. اھـ

اور مستقل فتاوى كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

" جب قسم كا كفارہ ميں كھانا كى شكل ميں ادا كيا جائے تو پھر پورے دس مسكينوں كو دينا چاہيے، ہر مسكين كو نصف صاع غلہ دينا ہو گا، اور اسے صرف ايك فقير كو ہى دينے سے ادائيگى نہيں ہوگى، چاہے اس دس دنوں ميں دس بار ديا جائے، كيونكہ يہ نص كے خلاف ہے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العليمۃ والافتاء ( 23 / 21 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں