اتوار 19 ذو القعدہ 1440 - 21 جولائی 2019
اردو

سجدے کی حالت میں خارش کرنے کیلیے ہاتھ زمین سے اٹھایا تو کیا اس سے نماز باطل ہو جائے گی؟

139988

تاریخ اشاعت : 23-07-2016

مشاہدات : 2862

سوال

سوال: اگر کوئی شخص سجدے کے دوران ہاتھ یا قدم زمین سے اٹھا لے اور پھر دوبارہ اسے زمین پر رکھ کر سجدہ مکمل کر لے تو کیا اس سے نماز باطل ہو جائے گی؟ مثال کے طور پر : نمازی کو سجدے کے دوران خارش کرنے کی ضرورت پڑی اور اس نے ایک ہاتھ زمین سے اٹھا لیا تو کیا اس کی نماز باطل ہے؟ اور اگر یہ عمل بھول کر کر لے تو کیا پھر بھی اس کی نماز باطل ہو گی اور دوبارہ ادا کرنا پڑے گی؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق سات اعضا ءپر سجدہ کرنا واجب ہے، جیسے کہ یہ بات بخاری: (812) مسلم: (490) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے ساتھ ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی -اور  آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی جانب اشارہ فرمایا- دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور قدموں  کے کنارے)

امام نووی رحمہ اللہ "شرح مسلم" (4/208) میں کہتے ہیں:
"اگر ان سات میں سے کسی ایک عضو  میں بھی خلل ہوا تو اس کا سجدہ صحیح نہیں ہوگا" انتہی

جمہور علمائے کرام جن میں امام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ شامل ہیں  اس حدیث کی بنا پر یہ کہا ہے کہ جب تک سجدہ ان تمام اعضا پر نہیں ہو گا سجدہ صحیح نہیں ہو گا، لہذا اگر کسی نے سات میں سے چھ اعضا پر سجدہ کیا تو اس کا سجدہ درست نہیں ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ "فتح الباری" میں رقمطراز ہیں:
"اس موقف کی دلیل میں  یہ تمام احادیث ہیں جن میں ان سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ اصول ہے کہ جس کام کیلیے حکم دیا جائے وہ واجب ہو تا ہے" انتہی
"فتح الباری" از: ابن رجب (5 / 114-115)

اس بنا پر جس شخص نے دوران سجدہ ان سات اعضا ءمیں سے کوئی ایک عضو زمین سے اٹھایا اور اس پر سجدہ نہیں کیا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی۔

البتہ تھوڑی سی دیر اٹھانے پر اس کی نماز ان شاء اللہ صحیح ہو گی۔

شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
ایک شخص دوران سجدہ اپنے کسی عضو کو اٹھا لیتا ہے تو کیا اس کی نماز باطل ہو جائے گی؟
تو انہوں نے جواب دیا:
"ظاہر ہے کہ اگر پورے سجدے میں سجدے کے سات اعضاء میں سے کسی ایک عضو کو زمین سے اٹھا کر رکھتا ہے تو اس کا سجدہ باطل ہے، اور اگر سجدہ باطل ہے تو نماز میں بھی باطل ہے، تاہم اگر تھوڑی سی مدت کیلیے اپنا قدم اٹھا  کر دوسرے قدم پر خارش کر لے اور پھر اسے اصلی جگہ پر لے جائے تو امید یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" انتہی

ماخوذ از: "لقاءات الباب المفتوح"

ایک اور مقام پر شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہر حالت میں ان سات اعضا پر سجدہ کرنا واجب ہے، مطلب یہ ہے کہ سجدے کی حالت میں ہاتھ، پاؤں، ناک اور پیشانی کو کسی بھی صورت میں زمین سے اٹھانا  جائز نہیں ہے، اور نہ ہی ان اعضاء کے کسی حصے کو زمین سے اٹھانا جائز ہے؛ اگر کوئی اٹھا لے تو پھر  پورے سجدے میں اٹھائے رکھنے سے یقینی طور پر سجدہ درست نہیں ہو گا؛ کیونکہ ایک ایسے عضو پر سجدہ نہیں کیا گیا جس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔

اور اگر دوران سجدہ  تھوڑی دیر کیلیے اٹھائے مثال کے طور پر ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر خارش کر لے تو یہاں ذرا تامل ہے، اس کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس شخص کی نماز بھی درست نہیں ہو گی ؛ کیونکہ اس نے بھی سجدے کے کچھ ارکان کو ترک کیا ہے۔

اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ : اس کا سجدہ درست ہے؛ کیونکہ اکثریت اور عموم کا اعتبار ہوتا ہے، لہذا اگر سجدے کا اکثر دورانیہ سات اعضاء پر تھا تو اس کا سجدہ صحیح ہو گا، چنانچہ اس بنا پر احتیاط اسی میں ہے کہ دوران سجدہ کسی بھی عضو کو زمین سے مت اٹھائے، چاہے اسے ہاتھ، ران، پاؤں کہیں بھی خارش کی ضرورت بھی محسوس ہو تو سجدے سے اٹھنے تک صبر کرے ۔" انتہی
"الشرح الممتع"  (3/37)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں