جمعرات 18 رمضان 1440 - 23 مئی 2019
اردو

نماز تراويح ميں امام كے ساتھ نماز عشاء ادا كرنا اور چاروں ركعات امام كے ساتھ ادا كرنا

سوال

ميرى عشاء كى نماز رہ گئى جب ميں مسجد گيا تو امام صاحب نماز تروايح شروع كر چكے تھے ميں نے عشاء كى نيت سے امام كے ساتھ دو ركعت ادا كيں اور امام نے سلام پھير ديا ليكن ميں بيٹھا رہا اور سلام نہيں پھيرا اور جب امام نے نماز شروع كى تو ميں اس كے ساتھ كھڑا ہو گيا اور اپنى عشاء كى نماز امام كے ساتھ مكمل كى يعنى چوتھى ركعت ميں امام كے ساتھ سلام پھيرى كيا يہ طريقہ صحيح ہے اور اگر صحيح نہيں تو مجھ پر كيا لازم آتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

نفلى نماز پڑھانے والے امام كے پيچھے فرضى نماز كے بارہ ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، اس مسئلہ ميں علماء كرام كے مختلف اقوال ہم سوال نمبر ( 79163 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں.

امام شافعى رحمہ اللہ اور ابن منذر رحمہم اللہ اس كے جواز كے قائل ہيں، اور امام احمد سے بھى ايك روايت يہى ہے، اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے.

سوال ميں وارد شدہ مسئلہ كے جواز ميں ہم نے ان حضرات سے جواز نقل كيا ہے كہ نماز تراويح ادا كرنے والے امام كے پيچھےنماز عشاء ہو جاتى ہے ليكن مقتدى امام كے سلام پھيرنے كے بعد اپنى نماز اكيلے ہى پورى كريگا.

اور جو كچھ سائل نے كيا ہے كہ وہ امام كے سلام پھيرنے كے بعد بيٹھا رہا اور جب امام نے دوبارہ تروايح شروع كيں تو وہ پھر ساتھ مل گيا اور دوسرى دو ركعات بھى امام كے ساتھ ہى ادا كر كے امام كے ساتھ سلام پھيرا تو اس ميں دو قول ہيں:

اگر كوئى شخص اكيلے نماز شروع كر دے تو كيا اس كے ليے امام كے ساتھ جماعت كى اقتدا كرنى جائز ہے يا نہيں ؟

كچھ علماء كرام اس كے منع كے قائل ہيں، اور كچھ كے ہاں ايسا كرنا صحيح ہے.

اس فعل كے بارہ ميں شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نےتوقف اختيار كيا ہے.

نفل ادا كرنے والے كے پيچھے فرض ادا كرنے كا جواز بيان كرتے ہيں جس ميں يہ بھى ہے كہ نماز تراويح ادا كرنے والے پيچھے نماز عشاء كا جواز ہے، شيخ كا كہنا ہے:

ميں جس ميں توقف كر رہا ہوں وہ يہ كہ دو ركعت ادا كرنے كے بعد مقتدى كا انتظار كرنا كہ امام دوسرى دو ركعت شروع كر دے اور وہ امام كے ساتھ نماز مكمل كريں، اس ميں توقف كر رہا ہوں.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو تم پاؤ وہ ادا كر لو، اور جو رہ جائے اسے پورى كر لو"

اس حديث سے يہى ظاہر ہوتا ہے كہ امام كے ساتھ ادا كرنے والے شخص كى جو نماز رہ گئى ہے وہ اكيلا ہى پورى كر لے، يعنى وہ انتظار نہ كرے كہ امام دوسرى دو ركعت شروع كرے تو وہ اس كے ساتھ اپنى چار ركعات مكمل كرے.

بلكہ ہم كہتے ہيں كہ: جب امام نے سلام پھير دى جس كے ساتھ آپ ملے ہو تو آپ باقى مانندہ پورى كر ليں اور اس كے دوسرى ركعات شروع كرنےكا انتظار مت كريں " انتہى

فتاوى نور على الدرب. كيسٹ نمبر ( 15 ) دوسرى سائڈ.

امام نووى رحمہ اللہ نے اس كے جواز كو راجح قرار ديتے ہوئے كہا ہے:

اور اگر وہ تراويح كے پيچھے نماز عشاء ادا كرے تو جائز ہے، جب امام سلام پھير دے تو وہ باقى مانندہ دو ركعت ادا كر لے، اور بہتر يہى ہے كہ وہ باقى مانندہ دو ركعت اكيلے ہى ادا كرے.

اور اگر امام دوسرى دوتراويح كے ليے كھڑا ہو گيا اور مقتدى نے باقى مانندہ نماز عشاء كى دو ركعت كى بھى امام كے ساتھ ادا كرنے كى نيت كى تو جس نے اكيلے نماز شروع كى اور پھر امام كى اقتدا كى نيت كر لى تو اس كے جواز ميں دو قول ہيں، اور صحيح يہى ہےكہ ايسا صحيح ہے " انتہى

ديكھيں: المجموع شرح المھذب ( 4 / 270 ).

اس بنا پر نماز صحيح ہے، اور آپ كےذمہ اس نماز كا اعادہ نہيں، ليكن افضل يہى ہے كہ آئندہ آپ باقى مانندہ نماز اكيلے ہى پورى كريں، اور دوبارہ امام كےساتھ مت مليں.

سائل پر نماز كا اعادہ نہيں اور نہ ہى اس پر دو ركعات لوٹانا لازم ہيں، اس نے امام كے پيچھے تراويح ميں جو كيا ہے وہ صحيح ہے.

ليكن ہمارى رائے ہے كہ بہتر يہى ہے كہ وہ اپنى باقى مانندہ نماز اكيلا ہى مكمل كرے، اور اگر وہ باقى مانندہ دو ركعت ميں امام كے ساتھ دوسرى دو ركعت تراويح ميں اقتدا كرتا ہے تو جائز ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں