بدھ 18 جمادی اولی 1440 - 23 جنوری 2019
اردو

طلاق كى تعداد ميں شك

14219

تاریخ اشاعت : 22-01-2011

مشاہدات : 3316

سوال

ايك شخص نے اپنى بيوى كو طلاق دے دى ليكن اسے يقين نہيں كہ طلاق دو بار دى يا تين بار، اس كا حكم كيا ہو گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جب خاوند كو اصل طلاق ميں شك پيدا ہو جائے، يا پھر طلاق كى تعداد ميں شك ہو جائے تو اسے يقين پر عمل كرنا چاہيے، اس ليے اگر كسى شخص كو شك ہو جائے كہ اس نے طلاق دى ہے يا نہيں ؟

تو اصل ميں طلاق واقع نہيں ہوئى؛ كيونكہ نكاح ايك يقينى امر ہے، اور طلاق ميں شك پيدا ہوا ہے.

اور قاعدہ و اصول ہے كہ يقين شك سے زائل نہيں ہوتا، اور جب كسى شخص كو شك ہو جائے كہ بيوى كو ايك طلاق دى ہے يا دو تو وہ اسے ايك ہى بنائے؛ كيونكہ يہ يقينى امر ہے اور دو ميں شك ہے.

ماخذ: الشيخ ڈاكٹر خالد بن على المشيقح

تاثرات بھیجیں