بدھ 22 ذو الحجہ 1441 - 12 اگست 2020
اردو

باجماعت نمازکے دوران شیطانی وسوسے آئیں تو اپنی بائیں جانب کیسے تھوکے ؟

144942

تاریخ اشاعت : 21-04-2015

مشاہدات : 4694

سوال

سوال: کیا نماز کے دوران ہم شیطانی وسوسہ دور کرنے کیلئے تین بار تھوک سکتے ہیں؟ یا صرف تعوّذ ہی پڑھ سکتے ہیں تھوک نہیں سکتے؟ کیونکہ یہ میں جانتا ہوں کہ نماز میں تھوکنا نماز سے باہر ہونے کا موجب ہے ۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

الحمد للہ:

نمازی کا  نماز میں شیطانی وسوسوں کے خاتمے کیلئے تعوّذ  پڑھنے کے بعد  اپنی بائیں جانب تین بار ہلکی  سی تھوک  کی آمیزش کے ساتھ پھونک مارنا  مسنون عمل ہے، اس کی دلیل صحیح مسلم : (2203)کی روایت ہے، جس  میں عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: "اللہ کے رسول! شیطان  نماز میں میرے اور میری نماز و  قراءت  کے درمیان حائل ہو جاتا ہے" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ( اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے، جب تمہیں  اس کی طرف سے کچھ محسوس ہو تو  [تعوّذ پڑھ کر]اللہ کی پناہ مانگو، اور اپنی بائیں جانب تین بار ہلکی  سی تھوک  کی آمیزش کے ساتھ پھونک مارو) عثمان بن ابو العاص کہتے ہیں: میں نے ایسا کیا تو اللہ تعالی   نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"نماز میں "أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ" پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوکنے کیلئے تھوڑا سا سر کو موڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ ضرورت کے وقت ایساکرنا مستحب ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن ابو العاص ثقفی رضی اللہ عنہ کو  شیطانی وسوسوں کی شکایت پر اسی طرح کرنے کا حکم دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ: تین بار تعوّذ پڑھیں، اور پھر اپنی بائیں جانب ہلکی سی تھوک کی آمیزش کیساتھ  پھونک ماریں، تو اللہ تعالی نے انکی شکایت رفع فرما دی "  انتہی
مجموع فتاوى ابن باز" (11 / 130)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"انسان جس وقت شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہے اور اپنی بائیں جانب  ہلکی سی تھوک کی آمیزش کیساتھ پھونکتا  ہے تو اس سے اسکی نماز  نہیں ٹوٹتی، بلکہ اس طرح کرنے سے اس نماز کامل اور مکمل ہوتی ہے" انتہی
"زاد المعاد" (3 / 602)

حدیث کے عربی الفاظ میں مذکور: "تفل" ایسی پھونک کو کہتے ہیں جس میں تھوڑی سی تھوک کی مقدار بھی شامل ہو، چنانچہ "لسان العرب" (11 / 77) – مادہ : "تفل"  میں ہے کہ:
"تفل" ہوتا ہی اس وقت ہے جب اس میں ہلکی سی تھوک کی مقدار بھی شامل ہو، اور اگر اس میں تھوک کی ہلکی سی مقدار بھی شامل نہ ہو تو اسے "نفث" کہا جاتا ہے" انتہی

یہاں "تفل" کا یہ معنی ہر گز نہیں ہے کہ تھوکا جائے، بلکہ  پھونک ایسے انداز سے ماری جائے کہ اس کے ساتھ تھوڑی سی مقدار میں تھوک کی آمیزش بھی ہو۔

اگر کوئی آدمی باجماعت نماز ادا کر رہا ہو توعام طور پر اپنی بائیں جانب  ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے بائیں جانب کھڑے شخص کو تکلیف ہو سکتی ہے، تاہم اگر بائیں جانب صف کے آخر میں  کھڑا ہو تو ایسا کرنا ممکن ہے، کیونکہ اس کی بائیں جانب کوئی نہیں ہوگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ : جب انسان نماز با جماعت ادا کر رہا ہو تو  اپنی بائیں جانب کیسے تھوکے؟  تو اس کا جواب یہ ہے کہ: اگر صف کی بائیں جانب سب سے آخر میں کھڑے شخص کو ایسا مسئلہ درپیش ہے ، تووہ بغیر کسی  حرج کے اپنی بائیں جانب  تھوک کی آمیزش کیساتھ مسجد کی باہر کی جانب پھونک مار سکتا ہے، اور اگر وہ شخص درمیانی صفوں میں ہے تو اپنے کپڑے یا  سر پر لئے ہوئے رومال کو استعمال میں لا کر ان میں پھونک مارے، اور اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تو صرف اپنی بائیں جانب سر موڑ کر تین بار: " أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ " پڑھے۔" انتہی
"فتاوى نور على الدرب" (155 / 12)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے یہ بھی منقول ہے کہ:
"اگر  انسان نماز با جماعت ادا کر رہا ہو، تو اپنی بائیں جانب کیسے تھوکے؟تو  ہم یہ کہیں گے کہ  تین بار تعوّذ پڑھے اور پھونک مت مارے، تا کہ ساتھ والے نماز کو تکلیف نہ ہو" انتہی
"فتاوى نور على الدرب" (185 / 45)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب