اتوار 11 صفر 1443 - 19 ستمبر 2021
اردو

ہم جماعت لڑکے کے ساتھ لڑکی کی دوستی تھی دونوں کے پاس ایک دوسرے کی تصویریں ہیں تو لڑکی اپنی تصویریں واپس مانگ لے؟

سوال

میری یونیورسٹی کے ہم جماعت لڑکے سے دوستی تھی، میں نے اب اللہ تعالی سے توبہ کر لی ہے اور اس سے ہر قسم کا تعلق ختم کر لیا ہے، اب اس کے پاس میری کچھ تصاویر ہیں اور میرے پاس بھی اس کی کچھ تصویریں ہیں، تو کیا میں تصویروں کے حرام ہونے کی وجہ سے اس سے اپنی تصویریں واپس مانگوں اور اس کی تصاویر اسے واپس کر دوں؟ یا لڑکے کے ساتھ دوبارہ بات شروع نہ کرنے کی غرض سے خاموشی اختیار کر لوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

کسی بھی لڑکی کے لیے اجنبی لڑکوں کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس دوستی میں بہت سے حرام کام پائے جاتے ہیں، مثلاً: ایک دوسرے کو دیکھنا، باتیں سن کر لذت حاصل کرنا، اجنبی مردوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے نرم لہجہ اپنانا، اور قلبی میلان وغیرہ۔ اس دوستی کے پردے کی اوٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ گھناؤنا جرم ہے۔ یہ سب چیزیں در اصل حرام اختلاط کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں ، صالحین ہمیشہ سے مرد و زن کے اختلاط سے روکتے چلے آئے ہیں، اور اس کے خطرات بھی بیان کرتے رہتے ہیں۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (84089) کا جواب ملاحظہ کریں۔

ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو توبہ کرنے کی توفیق دی اور آپ کو برائی سے محفوظ کر دیا۔

جبکہ تصاویر کے بارے میں یہ ہے کہ اگر آپ کو گمان ہو کہ وہ بغیر کسی معاوضے یا ٹال مٹول کو آپ کو آپ کی تصاویر دوستی قائم رہنے کی امید پر واپس کر دے گا، تو آپ ان سے اپنی تصاویر مانگ لیں، اور اسے اس کی تصاویر واپس کر دیں۔

لیکن اگر آپ کو خدشہ ہو کہ وہ آپ کو بلیک میل کرے گا یا آپ سے کوئی تاوان وغیرہ کا مطالبہ کرے گا، یا آپ کو غالب گمان یہ ہو کہ وہ آپ کو آپ کی تصاویر واپس ہی نہیں کرے گا، تو پھر آپ ان سے تصاویر طلب مت کریں، تاہم اس کی جو تصاویر آپ کے پاس ہیں انہیں آپ تلف کر دیں؛ کیونکہ آپ اپنے پاس کسی بھی ایسی چیز کو مت رکھیں جس سے آپ کو حرام کام کی یاد آئے یا آپ کو حرام کام کی رغبت ملے۔

ویسے انسان کو شیطان کے ہر قسم کے ہتھکنڈوں سے بچ کر رہنا چاہیے؛ لہذا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی تصویروں کی وجہ سے اس سے دوبارہ باتیں کرنے لگیں، چنانچہ اگر ایسا ہو تو پھر تصویروں کو چھوڑ دیں، اور اللہ تعالی پر مکمل بھروسا رکھیں، اللہ تعالی اپنے بندوں کے حفاظت کے لیے کافی ہے۔

نیز ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے، اور آپ کو اپنی اطاعت گزاری پر ثابت قدم رکھے، اور آپ کو مکاروں کی عیاری سے بچائے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب