اتوار 19 ذو القعدہ 1440 - 21 جولائی 2019
اردو

اس کی ہمشیرہ کا انجام کیا ہو گا جو موت سے قبل خطرناک اور تکلیف دہ امراض کا شکار رہی

14567

تاریخ اشاعت : 06-03-2004

مشاہدات : 4758

سوال

میری ہمشیرہ چودہ سال کی ہو کر فوت ہوئی ہے میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ آیا وہ جنت میں ہے کہ جہنم میں کیونکہ وہ بہت سارے امراض سے دو چار رہی ہے جن میں سے چند مرضیں یہ ہیں اس کا جسم بہت ڈھیلا تھا یعنی اسے زخم بہت جلدی ہوتا جس کی بناء پر خون نکلتا اور یہ خون اس کے جسم پر اندورنی اور بیرونی طور پر اثر انداز ہوا جس کی بناء پر بہت تکلیف اور بہت سے آپریشن بھی ہوئے اس کے ساتھ ساتھ جلدی سرطان اور جگر بڑھا ہوا تھا اور آخری ایام میں اس کے گردے فیل ہو چکے تھے اور چار ماہ تک ان کی صفائی ہوتی رہی جس سے اسے بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی اور پھر موت بھی اچانک ہوئی ہے ۔

جواب کا متن

الحمدللہ

اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اہل قبلہ (کلمہ پڑھنے والوں ) میں سے کسی کو بھی قطعی طور پر جنتی یا جہنمی قرار نہیں دیا جا سکتا الا یہ کہ جس کے متعلق اللہ تعالی یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گواہی دیں کیونکہ لوگوں میں سے اس بات کی گواہی کا علم ( کہ وہ جتتی یا جہنمی ہے) وحی کے بغیر نہیں ہو سکتا اور وحی کا سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے ساتھ ہی منقطع ہو چکا ہے تو اب نفسوں میں چھپی ہوئی باتوں اور خاتمہ کی حقیقت کو اللہ تعالی جو کہ اس کا خالق ہے کے سوا کوئی نہیں جان سکتا ۔

لیکن یہ بات ہے کہ موحد مسلمان جب وہ کلمہ پڑھتا ہو اس کے حقوق ادا کرتا ہو تو وہ جنت میں ضرور داخل ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اسے ان گناہوں پر عذاب دے جس کا اس نے اعتراف کیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اسے معاف کر دے لیکن آخری وقت وہ جنت میں داخل ہو گا اور اللہ تعالی کے اس وعدہ کی تصدیق ضروری ہے ۔

اور یہ نص سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کا وہ بچہ جو بلوغت سے قبل فوت ہو جائے تو وہ اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی سارہ کی نگہداشت میں ہو گا اور وہ اپنے والدین کے لۓ قیامت کے دن سفارش کرے گا۔

لیکن جو بلوغت کے بعد زندہ رہے تو اسے اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اگر اچھے عمل ہوں گے تو اچھا اور اگر اچھے نہ ہوئے تو اللہ تعالی کی مشیت پر ہے کہ اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے ۔

اور سوال کرنے والی بہن نے جو اپنی بہن – اللہ اس پر رحم کرے – کے متعلق ذکر کیا ہے کہ جو کچھ اسے تکلیفیں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کا ذکر سوال میں کیا گیا ہے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ اللہ کے ہاں اس کے درجات میں بلندی کا باعث ہوں گے ۔

مومن کو کوئی تکلیف اور غم اور پریشانی پہنجتی ہے تو اللہ تعالی اس کے ساتھ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے حدیث سے یہ ثابت ہے کہ جو کوئی پیٹ کی بیماری سے فوت ہو جائے وہ شہید ہے اور قیامت کے دن عافیت رکھنے والے جب دیکھیں گے یہ جو لوگ مصیبتوں میں گرفتار رہے انہیں اجر و ثواب مل رہا ہے تو وہ تمنا کریں گے کاش دنیا میں ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹا جاتا۔

لہذا ہم آپ کی بہن کے لۓ امید کرتے ہیں کہ اگر وہ ان مصائب پر صبر کرتے ہوئے اور اللہ تعالی پر ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالی کے فرائض کو استطاعت کے مطابق پورا کرتے ہوئے فوت ہوئی ہے تو اللہ تعالی کے ہاں اس کے لۓ اجر عظیم اور عزت والی منزلت ہے ۔

اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہم اور اس پر رحم کرے بے شک وہ سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں