بدھ 23 ربیع الاول 1441 - 20 نومبر 2019
اردو

حمد اور شکر میں فرق

سوال

کیا حمد اور شکر میں فرق ہے؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

اہل علم کے حمد اور شکر میں فرق سے متعلق دو موقف ہیں:

پہلا موقف: حمد اور شکر دونوں ہم معنی ہیں، اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ موقف ابن جریر طبری اور دیگر نے اختیار کیا ہے۔

امام طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ   کا معنی یہ ہے کہ شکر خالصتاً اللہ کا ادا ہو، اللہ کے علاوہ جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے کسی کا شکر ادا نہ ہو۔۔۔"

اس کے بعد امام طبری مزید لکھتے ہیں کہ:
 "عربی زبان کے ماہرین اور عرب لغات پر دسترس رکھنے والے اہل علم کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کوئی شخص عربی میں " الحمد لله شكرًا" کہے تو یہ صحیح ہے، تو جب اس طرح کہنا تمام کے ہاں صحیح ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ حمد کو بسا اوقات شکر کے مقام پر بول دیا جاتا ہے اور اسی طرح شکر کو بسا اوقات حمد کے مقام پر بول دیا جاتا ہے؛ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ جائز ہی نہیں تھا کہ " الحمد لله شكرًا" صحیح ہوتا۔" ختم شد
"تفسیر طبری" (1/138)

دوسرا موقف:

حمد اور شکر دونوں کا ایک معنی نہیں ہے؛ بلکہ دونوں میں فرق ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:

  1. حمد کا تعلق صرف زبان سے ہے، جبکہ شکر زبان، قلب اور جوارح سب سے ہوتا ہے۔
  2. حمد بسا اوقات نعمت کے مقابلے میں ہوتی ہے اور بسا اوقات حمد بغیر نعمت کے بھی ہوتی ہے، جبکہ شکر صرف نعمت کے مقابلے میں ہی ہوتا ہے۔

چنانچہ ابن کثیر رحمہ اللہ ، ابن جریر رحمہ اللہ کی سابقہ گفتگو پر نقد لکھتے ہوئے اپنی تفسیر: (1/32) میں کہتے ہیں:
"ابن جریر رحمہ اللہ نے جس چیز کا دعوی کیا ہے یہ محل نظر ہے؛ کیونکہ بہت سے متاخر علمائے کرام کے ہاں یہ مشہور ہے کہ حمد یہ ہے کہ: موصوف کی لازم اور متعدی صفات پر زبانی ثنا کو حمد کہتے ہیں۔ جبکہ شکر صرف متعدی صفات پر ہی ہوتا ہے اور شکر دل، زبان اور اعضا سب سے ہو سکتا ہے، جیسے کہ شاعر کا کہنا ہے کہ:

أَفَادَتْكُمْ النَّعْمَاءُ مِنِّي ثَلَاثَةً ... يَدِيْ وَلِسَانِيْ وَالضَّمِيْرَ الْمُحَجَّبَا

[ترجمہ: میری طرف سے تمہیں نعمتوں کے عوض تین چیزوں نے فائدہ پہنچایا: میرے ہاتھ، میری زبان اور پوشیدہ دل نے۔]

تاہم ان کا اس بات میں پھر اختلاف ہے کہ حمد عام ہے یا شکر؟ اس بارے میں بھی دو موقف ہیں، البتہ تحقیقی بات یہ ہے کہ حمد اور شکر دونوں میں عموم اور خصوص کا تعلق ہے، تو جب سبب کو دیکھیں تو حمد شکر کے مقابلے میں عام ہے ؛ کیونکہ حمد لازم اور متعدی تمام صفات پر ہوتی ہے، اس لیے آپ عربی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ: [لازم صفت کی مثال]" حمدته لفروسيته " [یعنی میں نے اس کی گھڑ سواری کی بنا پر تعریف کی]اور متعدی صفت کی مثال " حمدته لكرمه " [یعنی میں نے اس کی سخاوت پر اس کی تعریف کی]، حمد خاص اس اعتبار سے ہے کہ حمد صرف زبانی ہو سکتی ہے۔ جبکہ شکر ذرائع کے اعتبار سے عام ہے کہ شکر زبانی، عملی اور قلبی ہر تین طریقے سے ہو سکتا ہے، جیسے کہ پہلے بھی گزرا ہے، نیز شکر خاص اس اعتبار سے ہے کہ شکر صرف متعدی صفات پر ہی ہوتا ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جائے گا کہ: "شكرته لفروسيته " تاہم آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ: " شكرته على كرمه وإحسانه إليّ " بعض متاخرین کی جانب سے جو تحقیق سامنے آئی ہے یہ اس کا خلاصہ ہے۔ واللہ اعلم" ختم شد
اسی چیز پر ابو ہلال عسکری رحمہ اللہ نے حمد اور شکر کے درمیان تفریق کی بنیاد رکھی ہے، ان کا کہنا ہے کہ:
"حمد اور شکر میں فرق: کسی بھی خوبی پر زبان سے ثنا خوانی حمد کہلاتی ہے چاہے اس خوبی کا تعلق ذاتی چیزوں سے ہو جیسے کہ علم وغیرہ یا متعدی چیزوں سے ہو جیسے کہ کسی کا بھلا کر دینا وغیرہ

جبکہ شکر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی نعمت کے مقابلے میں نعمت کنندہ کی تعظیم کے لئے کیا جائے، چاہے وہ زبانی تعریف ہو، یا قلبی نظریہ اور محبت ہو، یا اعضا کے ذریعے خدمت کے کسی کام کی صورت میں عیاں ہو۔

شاعر نے ان تینوں چیزوں کا ذکر ایک شعر میں کیا ہے۔ [وہ شعر ابن کثیر کی گفتگو میں پہلے گزر چکا ہے۔]

تو حمد اس اعتبار سے عام ہے کہ یہ نعمت اور دیگر چیزوں پر ہو سکتی ہے، لیکن ذرائع کے اعتبار سے خاص ہے کہ صرف زبان سے ممکن ہوتی ہے، جبکہ شکر اس کے بر عکس ہے کہ شکر ہمیشہ نعمت کے مقابلے میں ہوتا ہے اور اس کے ذرائع زبان کے علاوہ بھی ہیں۔

تو حمد اور شکر کے ما بین عموم خصوص من وجہ کا تعلق ہے، تو کسی احسان کے مقابلے میں زبانی ثنا پر حمد اور شکر دونوں الفاظ بولے جا سکتے ہیں، جبکہ علم کی صفت پر ثنا کرتے ہوئے صرف حمد کا لفظ بولا جا سکتا ہے، جبکہ شکر کا لفظ احسان کے مقابلے میں دلی محبت پر بولا جا سکتا ہے۔" ختم شد
" الفروق اللغوية" (201-202)

ابن قیم رحمہ اللہ "مدارج السالكين" (2/246) میں لکھتے ہیں کہ:
"دونوں میں فرق یہ ہے کہ: شکر اپنی اقسام اور اسباب کے اعتبار سے عام ہے، جبکہ متعلقات کے اعتبار سے خاص ہے۔ دوسری جانب حمد متعلقات کے اعتبار سے عام ہے اور اسباب کے اعتبار سے خاص ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ: شکر دل سے تو عاجزی اور انکساری کے ذریعے ادا ہوتا ہے، زبان سے اعتراف اور ثنا خوانی سے، جبکہ اعضا سے اطاعت اور سر تسلیم خم کرنے سے ادا ہوتا ہے۔

شکر کے متعلقات: صرف متعدی نعمتیں ہوتی ہیں، ذاتی نوعیت کی خوبیوں پر شکر نہیں ہوتا، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ: ہم اللہ تعالی کی حیات، سماعت، بصارت اور علم پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں، بلکہ ان صفات پر اللہ کی حمد بیان کی جائے گی، جس طرح اللہ کے احسان اور عدل پر اللہ کی حمد بیان کی جاتی ہے۔

شکر کسی احسان اور نعمت کے مقابلے میں ہوتا ہے، تو جس چیز پر شکر ہو سکتا ہے اس پر حمد بھی ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے برعکس صحیح نہیں ہے۔ اور جس چیز کے ذریعے حمد بیان ہو سکتی ہے اس کے ذریعے شکر بھی ادا ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے برعکس صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ شکر اعضا سے ادا ہو سکتا ہے جبکہ حمد دل اور زبان سے بیان ہوتی ہے۔" ختم شد

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں