جمعرات 18 رمضان 1440 - 23 مئی 2019
اردو

كھڑے ہو كر پيشاب كرنے كا حكم

سوال

كيا انسان كے ليے كھڑے ہو كر پيشاب كرنا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس طرح پيشاب كرنے سے لباس اور بدن پر چھينٹے نہيں پڑتے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

كھڑے ہو كر پيشاب كرنے ميں كوئى حرج نہيں، خاص كر ضرورت كے وقت جب كہ جگہ باپرد ہو اور پيشاب كرنے والے كى شرمگاہ كو كوئى شخص نہ ديكھے، اور نہ ہى اس پر پيشاب كے چھينٹے پڑيں، كيونكہ صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ: حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم گندگى پھينكنے والى جگہ پر آئے اور كھڑے ہو كر پيشاب كيا "

متفق عليہ.

ليكن افضل يہى ہے كہ بيٹھ كر پيشاب كيا جائے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا غالب فعل يہى تھا، اور اس ميں پردہ بھى زيادہ ہے، اور پيشاب كے چھينٹے پڑنے كا احتمال بھى باقى نہيں رہتا "

واللہ اعلم .

ماخذ: ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ للشيخ ابن باز ( 6 / 352 )

تاثرات بھیجیں