جمعرات 13 شعبان 1440 - 18 اپریل 2019
اردو

رضاعت دودھ پينے والے كے بہن بھائيوں پر اثرانداز نہيں ہوگى

146850

تاریخ اشاعت : 12-02-2015

مشاہدات : 1505

سوال

ميرى سالى نے اپنى پھوپھى كا دودھ پيا ہے، اور پھوپھى كا ايك بيٹا بھى ہے تو كيا اس كا يہ بيٹا ميرى بيوى كا رضاعى بھائى ہو گا يا نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

رضاعت صرف دودھ پينے والے اور اس كى اولاد ميں ہى مؤثر ہوتى ہے، ليكن دودھ پينے والے بچے كے باقى رشتہ داروں پر مؤثر نہيں ہوگى.

اس بنا پر آپ كى سالى كا رضاعى بھائى آپ كى بيوى كا رضاعى بھائى نہيں بنےگا؛ كيونكہ دودھ تو آپ كى سالى نے پيا ہے، آپ كى بيوى نے نہيں، اور صرف دودھ پينے والے بچے پر رضاعت مؤثر ہوتى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہمارے پاس دين قسم كے افراد ہيں:

ايك تو دودھ پلانے والى ماں ہے، اور دوسرا دودھ والا يعنى ماں كا خاوند يا مالك اور تيسرا دودھ پينے والا بچہ ہے ان تينوں ميں سے ہر ايك كے اصل اور فرعى رشتہ دار ہيں.

چنانچہ دودھ پلانے والى عورت كے اصل اور اس كى فرع  يعنى اس كے ماں باپ اور اولاد اور اس كے رشتہ داروں ميں بھائى اور چچا اور ماموں، اور اسى طرح دودھ والے كے بھى اصل يعنى باپ دادا اور فرع يعنى اولاد اور رشتہ دار، اور اسى طرح دودھ پينے والے بچے كے بھى اصل يعنى باپ دادا اور فرع يعنى اولاد اور رشتہ ہيں.

چنانچہ دودھ پينے والے بچے كے رشتہ داروں اور باپ دادا پر رضاعت كا كوئى اثر نہيں ہوگا، صرف رضاعت اس كى ذات اور اس كى اولاد پر اثرانداز ہوگى.

ليكن دودھ پلانے والى عورت كے اصل اور فرع اور رشتہ دار سب پر رضاعت اثرانداز ہوگى، اسى طرح دودھ والے شخص كى اصل اور فرع اور رشتہ داروں پر بھى رضاعت كا اثر ہوگا، اس تقسيم سے انسان كے ليے رضاعت كا اثر معلوم كرنا آسان ہو جاتا ہے.

اس كى ايك مثال بيان كرتا ہوں:

زيد نے ہند كا دودھ پيا ہند كے خاوند كا نام خالد ہے اس طرح ہند كى ماؤں ميں رضاعت اثرانداز كريگى، اور اسى طرح ہند كى بيٹيوں اور ہند كى بہنوں اور اس كى پھوپھيوں اور ہند كى خالاؤں ميں رضاعت اثرانداز ہوگى.

اور دودھ والا يعنى خالد كى ماؤں ميں اثرانداز ہوگى كيونكہ وہ اس كى اصل ہيں، اور اس كى بيٹيوں بھى اثرانداز ہوگى كيونكہ يہ اس كى فرع ہے، اور اس كے بھائيوں ميں اثرانداز ہوگى كيونكہ وہ اس كے حواشى ہيں.

اب دودھ پينے والا بچہ باقى ہے: اس بچے كى ذريت و اولاد ميں رضاعت اثرانداز ہوگى، ليكن اس كے اصل اور حواشى ميں رضاعت كا كوئى اثر نہيں ہوگا.

اس ليے دودھ پينے والے بچے كا بھائى اس عورت سے شادى كر سكتا ہے جس نے اس بچے كو دودھ پلايا ہے؛ كيونكہ رضاعت دودھ پينے والے بچے كے حواشى ميں اثرانداز نہيں ہوتى، اور اسى طرح دودھ پينے والے بچے كے ليے بھى اپنے بيٹے كو دودھ پلانے والى عورت سے نكاح كرنا جائز ہے؛ كيونكہ دودھ پينے والے كى اصل ميں بھى رضاعت اثرانداز نہيں ہوتى.

ليكن دودھ پينے بچے كے بيٹے كے ليے اپنے باپ كى رضاعى بہن سے شادى كرنا جائز نہيں ہے؛ كيونكہ وہ دودھ پينے والے كى فرع ہے، اور دودھ پينے والے كى فرع ميں رضاعت اثرانداز ہوتى ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 423 ).

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں