ہفتہ 14 جمادی اولی 1440 - 19 جنوری 2019
اردو

اگر مرد اور عورت گھر میں نماز پڑھیں تو کیا آذان اور اقامت کہیں گے؟

146921

تاریخ اشاعت : 09-01-2015

مشاہدات : 1892

سوال

سوال: کیا عورت گھر میں نماز پڑھتے ہوئے صرف اقامت پر اکتفاء کرسکتی ہے؟اور اگرمرد مسجد میں نماز سے لیٹ ہوجائے اور گھر میں ہی نماز پڑھنے لگے –چاہے وقت پر ادا کرے یا وقت گزرنے کے بعد ادا کرے- تو کیا اس کے لئے بھی اقامت کافی ہے؟ یا اسے آذا ن بھی دینی پڑے گی؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

"مرد کیلئے صرف اقامت  ہی کافی ہے، کیونکہ اس نے آذان سنی ہے، اور مسلمانوں نے آذان دے دی ہے ، چنانچہ اس کیلئے اقامت ہی کافی ہوگی ، جبکہ عورت پر آذان اور اقامت کچھ نہیں ہے، عورت بغیر آذان اور اقامت کے نما زادا کریگی" انتہی

سماحۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ الله .

ماخذ: "فتاوى نور على الدرب" (2/691)

تاثرات بھیجیں