ہفتہ 10 ذو القعدہ 1445 - 18 مئی 2024
اردو

ایک لڑکے نے کسی کی دکان میں کام کرتے ہوئے ذاتی رقم سے کچھ چیزیں فروخت کی اور نفع خود رکھ لیا، تو اب کیا کرے؟

سوال

میں 17 سال کی عمر میں دکان پر کام کرتا تھا اور وہاں موبائل کارڈ فروخت ہوتے تھے جو کہ 10 پاؤنڈ میں خریدے جاتے اور 15 میں فروخت ہوتے تھے، ایک بار کارڈ ختم ہو گئے اور دکان کے مالک کو نئے کارڈ لانے کے لیے بتلا دیا کہ کارڈ ختم ہو گئے ہیں، لیکن مالک نئے کارڈ نہیں لایا، تو میں نے ذاتی رقم سے کارڈ خرید کر فروخت کر دئیے اور نفع خود رکھ لیا، پھر کچھ عرصے بعد جب میرا ضمیر بیدار ہوا تو میں نے عزم کر لیا کہ وہ نفع دکاندار کو واپس کروں گا۔ واضح رہے کہ جس وقت میں نے دکان چھوڑی تھی اس وقت 150 پاؤنڈ میں نے اس سے لینے تھے وہ نہیں لیے، اور پھر 140 پاؤنڈ میں نے دکاندار کی طرف سے صدقہ کر دئیے۔ اب سوال یہ ہے کہ میرے پاس 300 پاؤنڈ ہیں کیا انہیں دکاندار کی طرف سے صدقہ کر دوں یا لازمی طور پر دکاندار کو ارسال کروں، واضح رہے کہ دکاندار انتہائی عیاش اور گناہوں میں ملوث ہے، میں نے جانتا کہ وہ مال کہاں استعمال کرے گا، میں اسے کتنے پیسے بھیجوں؟ کیونکہ مجھے نہیں معلوم کے نفع کتنا تھا؟
اسی طرح پاؤنڈ کی قیمت میں بھی اب کافی فرق آ چکا ہے، کیونکہ یہ تقریباً 10 سال پرانی بات ہے۔
اللہ تعالی آپ کو برکت دے اور اس ویب سائٹ کے منتظمین کو بھی برکت عطا فرمائے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

کسی دکان پر کام کرنے والے شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی چیزیں بھی وہاں فروخت کرے اور نفع خود رکھ لے؛ کیونکہ یہ امانت میں خیانت ہے، اور دکاندار سے دھوکا دہی میں شامل ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو توبہ کی توفیق دے اور آپ نے پوچھا کہ اب آپ کیا کریں؟

اس لیے آپ پر لازم ہے کہ ان کارڈوں کا نفع دکاندار کو دیں، اور نفع کی مقدار جاننے کے لیے محتاط ترین ایسا تخمینہ لگائیں کہ آپ کو لگے کہ آپ نے اپنے ذمہ تمام رقم دکاندار کو ادا کر دی ہے۔

آپ نے بتلایا کہ 150 پاؤنڈ دکان میں چھوڑے تھے، اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نفع کی مد میں اسے چھوڑے تھے تو یہ رقم آپ کے ذمہ مجموعی رقم میں سے منہا ہو جائے گی۔

اور جو رقم آپ نے دکاندار کی طرف سے صدقے کی نیت سے ادا کی ہے یہ رقم آپ مجموعی رقم سے منہا نہیں کر سکتے؛ کیونکہ آپ پر یہ لازم تھا کہ یہ رقم دکاندار کو واپس کریں نا کہ ان کی طرف سے صدقہ کریں۔ دکاندار کی طرف سے صدقہ کرنا اس وقت جائز ہو گا جب آپ کے لیے دکاندار تک پہنچنا ممکن نہ ہو؛ لیکن یہاں تو آپ اس کی جگہ بھی جانتے ہیں، تو اس لیے آپ دکاندار کی طرف سے اس رقم کو صدقہ نہیں کر سکتے۔

اور یہ بھی سمجھ لیں کہ وہ صدقہ آپ کی طرف سے ان شاء اللہ ہو گیا، ہماری دعا ہے کہ آپ کو اپنی نیکیوں کے پلڑے میں یہ صدقہ ملے ۔

اب آپ اپنے ذمہ دکاندار کے بقیہ نفع کا تخمینہ لگائیں اور اپنی توبہ کو مکمل کرنے کے لیے یہ رقم دکاندار تک پہنچائیں ان شاء اللہ پھر آپ کی توبہ بارگاہ الہی میں قبول بھی ہو گی۔

البتہ پاؤنڈ کی قیمت میں آنے والے فرق سے کچھ نہیں ہو گا، آپ بغیر کسی کمی بیشی کے مطلوبہ رقم دکاندار کو پہنچائیں گے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی توبہ قبول کرے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب