سوموار 2 ربیع الثانی 1440 - 10 دسمبر 2018
اردو

کیا مسائل کے حل کیلیے نماز میں تاخیر جائز ہے

سوال

مسائل حل کرنے کیلیے نماز میں تاخیر کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر کوئی مسلمان دو افراد یا دو گروہوں کے مابین صلح  کرنے کیلیے جائے اور نماز کا وقت ہو جائے، اور اسے اندیشہ ہو کہ اگر مجمع بکھر گیا تو پھر صلح ممکن نہیں ہو گی تو ایسی صورت میں پہلی جماعت سے نماز مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لہذا وہ بعد میں نماز با جماعت ادا کرے یا اگر جماعت نہ بھی ملے تو اکیلے ہی نماز ادا کر لے، یہ جماعت چھوڑنے یا جماعت کو قدرے مؤخر کرنے کیلیے عذر بن سکتا ہے۔

چنانچہ بخاری: (2690) اور مسلم: (421) میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے کچھ افراد کی باہمی چپقلش تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ ان کے پاس صلح کروانے کیلیے گئے اور نماز کا وقت ہو گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس نہ آئے ، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کیلیے اذان کہہ دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی واپس نہ پہنچ پائے، تو بلال رضی اللہ عنہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بتلایا کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیلیے نہیں پہنچ سکے اور نماز کا وقت ہو گیا ہے تو کیا آپ لوگوں کی جماعت کرواؤ گے؟ تو انہوں نے کہا: اگر تم کہتے ہو تو پڑھا دیتا ہوں، تو اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جماعت کروائی۔۔۔ الخ

اور اگر نماز کو آئندہ نماز یعنی ظہر کو عصر کے ساتھ یا مغرب کو عشا کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو بھی اس کی اجازت ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، دونوں نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں۔

احادیث عذر کی صورت میں دو نمازوں کو حالتِ اقامت اور بغیر سفر کے بھی جمع کر کے ادا کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
"امام احمد نے صراحت کے ساتھ کام کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی ہے" اور ابن سیرین  رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ضرورت اور کام کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اسے عادت نہیں بنایا جا سکتا" انتہی
"فتح الباری" از: بن رجب (3 /93)

لیکن ایک نماز کو مؤخر کر کے ایسی نماز کے ساتھ ادا کرنا جس کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا جائز نہ ہو [مثلاً: عصر کو مغرب کے ساتھ جمع کرنا، اور فجر کو ظہر کے ساتھ  جمع کرنا]تو ایسا عمل درست نہیں ہے۔

بلکہ واجب یہی ہے کہ نماز کو اس کے وقت میں ہی ادا کیا جائے، چنانچہ وہ مسجد کی نماز با جماعت لوگوں میں صلح کی غرض سے چھوڑ دے اور پھر جن کی صلح کروا رہا ہے ان کے ساتھ با جماعت نماز ادا کر لے، تا کہ لوگوں کے بکھرنے سے پہلے صلح بھی ہو جائے اور نماز بھی با جماعت ادا ہو جائے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں