جمعرات 24 ربیع الاول 1441 - 21 نومبر 2019
اردو

کن اہل خانہ کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوگی؟ جانئے ان کے بارے میں اصول

سوال

سوال: میں ملازم ہو، ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی ہے، اور میں اپنے والد کے ساتھ بھی نہیں رہتا، تو کیا میں عید قربان پر اپنے والد کیلئے قربانی خرید سکتا ہوں؟ یا کہ میرے والد پر اپنی ذاتی رقم سے قربانی خریدنا لازم ہوگا؟ اور اگر میں اپنے والد کو قربانی کی خریداری کیلئے کچھ رقم تعاون کے طور پر دے دوں تو اس میں کوئی حرج ہے؟ میں –الحمد للہ- اس حالت میں ہوں کہ قربانی خرید سکتا ہوں، تو کیا مجھ پر واجب ہے کہ اپنی طرف سے قربانی کروں؟ ذہن نشیں رہے کہ میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی، یہ میرے ملے جلے سے سوالات ہیں۔
اللہ تعالی آپکو جزائے خیر سے نوازے، اور اسلام و مسلمانوں کی خدمت کیلئے آپکی راہنمائی فرمائے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

احناف کے علاوہ تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ ایک قربانی ایک گھرانے کے تمام افراد کی طرف سے بطور سنت کفایہ ، کافی ہوگی، جیسے کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عید قربان پر قربانیاں کیسے ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا، وہ خود بھی اس میں سے کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے، حتی کہ لوگ اس عمل پر فخر کرنے لگے اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا جو آپ کو نظر آرہا ہے"ترمذی: (1505) اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔

اس مسئلے کی تحقیق ہماری ویب سائٹ کے متعدد جوابات میں گزر چکی ہے، جن میں سے چند یہ ہیں: (45916) اور (96741)

دوم:

ایک قربانی جس "گھرانے" کی طرف سے کفایت کرسکتی ہے، اسکی تعریف کے بارے میں علمائے کرام کے چار اقوال ہیں:

1- جن میں تین شرائط پائی جائیں: (الف)قربانی کرنے والا شخص انکے خرچہ کا ذمہ دار ہو (ب) وہ تمام افراد اسکے رشتہ دار بھی ہو (ج) قربانی کرنے والا شخص انکے ساتھ رہائش پذیر ہو، یہ موقف مالکی فقہائے کرام کا ہے۔

چنانچہ مالکی فقہ کی کتاب "التاج والإكليل" (4/364) میں ہے کہ:

"(اگر اسکی رہائش انکے ساتھ ہو، اور وہ انکا رشتہ دار بھی ہو، ساتھ میں ان پر خرچ بھی کرے چاہے تبرّعاً ہی خرچ کرے) یعنی انہوں نے تین وجوہات کی بنا پر ایک [قربانی کرنے ]کی اجازت دی: رشتہ داری، اکٹھی رہائش، اور خرچہ "انتہی مختصراً

2- جن پر ایک ہی شخص خرچ کرتا ہو، یہی موقف کچھ متأخر شافعی فقہاء کا ہے۔

3- قربانی کرنے والے کے تمام عزیز و اقارب، چاہے ان پر یہ خرچ بھی نہ کرتا ہو۔

4- قربانی کرنے والے کیساتھ رہنے والے تمام افراد چاہے اسکے رشتہ دار نہ ہوں، اس موقف کے قائلین میں خطیب شربینی، شہاب رملی، اور متأخر شافعی فقہاء میں سے طبلاوی رحمہم اللہ جمیعا شامل ہیں، لیکن ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے اسے بعید قرار دیا ہے۔

شہاب رملی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"ایک مکان میں رہنے والے متعدد افراد جو کہ آپس میں رشتہ دار بھی نہیں ہیں انکی طرف سے ایک قربانی کافی ہوگی؟

تو انہوں نے جواب دیا:

جی ہاں! ادا ہوجائے گی، اور کچھ متأخرین نے یہ کہا ہے کہ یہ [ایک قربانی ایسے شخص کی طرف سے کرنے پر سب کی طرف سے ہوگی]جو شخص ان کے خرچ کا ذمہ دار ہے"انتہی

" فتاوى رملی " (4/67)

اور ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"-یہ احتمال ہے کہ اس سے اسکے مرد و خواتین عزیز و اقارب مراد ہوں۔

-اور یہ بھی احتمال ہے کہ اہل خانہ سے یہاں وہ لوگ مراد ہوں جن پر ایک ہی شخص خرچ کرنے والا ہو، چاہے تبرّعاً ہی خرچ کرتا ہو۔

اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا قول: " ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا " مذکورہ بالا دونوں معانی کا احتمال رکھتا ہے۔

-اور یہ بھی احتما ل ہے کہ اس سے مراد ظاہری معنی ہو: یعنی وہ لوگ اہل خانہ میں شامل ہیں جو ایک ہی مکان میں رہتے ہوں، اور اس مکان کے ملحقات [صحن، برآمدہ، بیت الخلاء]مشترکہ ہوں، چاہے انکی آپس میں قرابت داری بھی نہ ہو، اس [تیسرے] احتمال کو کچھ فقہاء نے ٹھوس انداز سے اپنایا ہے، لیکن [حقیقت میں] یہ بعید ہے" انتہی مختصراً از: " تحفة المحتاج " (9/345)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ: والد سے الگ رہائش پذیر بڑا بیٹا اپنے لئے علیحدہ سے قربانی کر سکتاہے، کیونکہ اب یہ اپنے والد کے اہل خانہ میں شامل نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مستقل گھر کا مالک ہے۔

اور اگر اولاد اپنے والد کا قربانی کی خریداری کیلئے تعاون کرے تو اسے ان شاء اللہ اجر ضرور ملے گا، لیکن یہ اجر صدقہ ، اور تبرّع کرنے کا ہوگا، قربانی کرنے کا نہیں ہوگا۔

مزید کیلئے سوال نمبر: (41766) کا جواب ملاحظہ کریں

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں