منگل 16 رمضان 1440 - 21 مئی 2019
اردو

بینک کے منافع سے جان چھڑانا چاہتا ہے، تو کیا اپنی والدہ اور بہنوں کو دے دے؟

173119

تاریخ اشاعت : 13-12-2015

مشاہدات : 1050

سوال

سوال: میں مصر کے اسلامی بینک میں شادی کیلئے پیسے جمع کر رہا ہوں، اس کے بدلے میں مجھے غیر معین مقدار میں منافع ملتا ہے، میں اس منافع کو خرچ کرنا چاہتا ہوں، جس کیلئے میرا ارادہ ہے کہ اس میں سے کچھ حصہ اپنی بہنوں کو دے دوں تا کہ وہ اپنی شادی کی تیاری میں اسے استعمال کریں، اور اس میں سے کچھ حصہ اپنی والدہ کو دینا چاہتا ہوں، تو کیا اس رقم سے میری والدہ گھر کے اخراجات یا اپنے لیے سونا خرید سکتی ہے؟ اللہ آپکو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

آپ کے سوال سے ہم یہ سمجھ میں آیا ہے کہ آپ تقوی اور احتیاط برتتے ہوئے حاصل ہونے والے منافع سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

کیونکہ اس نفع کے بارے میں یقینی بات کرنا ناممکن ہے کہ یہ حرام ہے؛ کیونکہ آپ کے مطابق یہ ایک اسلامی بینک سے حاصل شدہ ہے۔

چنانچہ آپ کی طرف سے اپنی بہنوں اور والدہ کو یہ رقم تحفہ میں دینا صلہ رحمی میں بھی شامل ہوگا۔

دوم:

اس رقم کو والدہ گھر کے اخراجات یا اپنے لیے سونے کی خریداری میں بھی صرف کر سکتی ہے، یا دیگر جائز جگہوں میں بھی اسے خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

آپ افضل اور محتاط طریقے کی تلاش میں ہیں ، اس لیے افضل یہی ہے کہ آپ  کسی حقیقی اسلامی بینک میں سرمایہ کاری کریں؛ کیونکہ حکومتی اسلامی بینکوں کے لین دین کافی حد تک مشکوک ہیں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں