جمعرات 18 رمضان 1440 - 23 مئی 2019
اردو

کیا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بہت زیادہ شادیاں کیں تھیں؟

سوال

میں نے ایک ویب سائٹ پر پڑھا ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے 90 سے زائد عورتوں سے شادی کی تھی، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

متعدد اہل علم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کافی زیادہ شادیاں کی تھیں اور بہت زیادہ طلاقیں بھی دی تھیں۔

چنانچہ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"[مؤرخین] کا کہنا ہے کہ: حسن بن علی نے بہت زیادہ شادیاں کی تھی اور آپ کے عقد میں ہر وقت چار آزاد عورتیں  ہوتی تھیں، آپ کثرت سے طلاق دیتے اور حق مہر ادا کرتے تھے، یہاں تک کہا گیا ہے کہ آپ نے ستر خواتین کو اپنے عقد میں جگہ دی" ختم شد
"البداية والنهاية" (8/42)

مزید کے لیے آپ امام ذہبی رحمہ اللہ کی "سير أعلام النبلاء" (3 /253) اور اسی طرح : "تاريخ دمشق" از: ابن عساکر (13 /251)  نیز "تاريخ الإسلام" از ذہبی  (4 /37)  اور راغب اصفہانی کی "محاضرات الأدباء" (1 /408)  بھی دیکھیں۔

تاہم ہمیں یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ بہت سی تاریخی روایات ثابت نہیں ہوتیں اس لیے ایسی روایات کے بارے میں احتیاط برتنی چاہیے خصوصاً اگر کوئی روایت نامور شخصیات اور مسلم سربراہان کے بارے میں ہو۔

چنانچہ حافظ عراقی "ألفية السيرة" (ص 1)  میں کہتے ہیں:
"وليعلمِ الطالبُ أنَّ السّيَرَا تَجمَعُ ما صحَّ وما قدْ أُنْكرَا"
ترجمہ: طالب علم یہ بات جان لے کہ سیرت کی کتابوں میں صحیح اور غلط سب جمع ہے۔

اسی لیے شیخ عبدالرحمن معلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حدیث کی بہ نسبت تاریخی روایات کو بیان کرنے والوں کو پرکھنے  کی ضرورت زیادہ ہے؛ کیونکہ تاریخی روایات میں جھوٹ اور نا پختگی  زیادہ ہے" انتہی
"علم الرجال وأهميته" (ص 24)

اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ستر  یا نوّے سے زیادہ عورتوں سے شادی کی یا اسی طرح کی دیگر روایات تو ان میں سے کوئی ایک بھی ہمیں ایسی نہیں ملی کہ جس کی سند قابل حجت ہو، اس لیے ایسی روایات کو قبول کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے اور ان پر اعتماد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر علی محمد صلابی اپنی کتاب : حسن بن علی رضی اللہ عنہ صفحہ 27 میں لکھتے ہیں:
"مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ آپ کی بیویوں میں فزاری قبیلے کی خولہ ، جعدہ بنت اشعث، خثعمی قبیلے کی عائشہ ، ام اسحاق بنت طلحہ بنت عبید اللہ تمیمی، ام بشیر بنت ابو مسعود انصاری، ہند بنت  عبدالرحمن بن ابو بکر، ام عبداللہ بنت شلیل بن عبداللہ  جو کہ جریر بجلی کے بھائی ہیں، بنو ثقیف کی ایک عورت، بنی عمرہ بن اہیم منقری میں سے ایک خاتون  اور بنی شیبان  آل ہمام بن مرہ سے ایک خاتون  شامل ہیں، ممکن ہے کہ ان میں کچھ اضافہ بھی ہو جائے لیکن پھر بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی بیویوں کی اس وقت کے عرف کے مطابق بھی اتنی بڑی تعداد نہیں ہے جیسے کہ ان کی بیویوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔

جبکہ تاریخی روایات میں جو ملتا ہے کہ آپ نے ستر شادیاں کیں، کچھ میں نوّے کا ذکر ہے اور کچھ میں تو 250 کا ہے بلکہ کسی میں تو 300 کا بھی ذکر ہے ، اس کے علاوہ بھی روایات موجود ہیں  تو یہ سب کی سب شاذ روایات ہیں بلکہ اتنی بڑی تعداد اور عدد خود ساختہ اور من گھڑت معلوم ہوتا ہے، ان روایات کی تفصیل یہ ہے:۔۔۔" پھر انہوں نے ان تمام روایات کی تفصیل ، ضعف، اور کمزوری ذکر کی ہے، آپ تفصیلات کے لیے پہلے بیان شدہ ان کی کتاب کا صفحہ نمبر: 28 تا 31 کا مطالعہ کریں۔

پھر اس کے بعد آپ صفحہ 31 پر کہتے ہیں:
"حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شادیوں کے بارے میں تخیلاتی تعداد ذکر کرنے والی کوئی ایک روایت بھی سند کے اعتبار سے ثابت نہیں ہوتی، اس لیے ان روایات پر  اعتماد کرنا صحیح نہیں ہے ؛ کیونکہ ان میں شبہات اور نقائص پائے جاتے ہیں"

اسی طرح پھر آگے چل کر کہتے ہیں:
"یہاں سے جرح و تعدیل کے علم  اور روایات پر حکم کی اہمیت بھی عیاں ہوتی ہے کہ علمائے حدیث نے جھوٹی روایات  کو صحیح روایات سے ممتاز کرنے کے لیے جو کردار ادا کیا وہ بھی یہاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے۔

اس لیے ہم ابتدائے اسلام کے متعلق تاریخ تلاش کرنے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس قسم کی روایات کو لازمی طور پر پرکھیں تا کہ صحیح اور ضعیف روایات کو الگ الگ کر سکیں اور امت کے لیے  اچھا کام کر کے جائیں تا کہ وہ کسی ایسی غلطی میں ملوّث نہ ہوں جن میں ہمارے بعض اسلاف سے تسامح ہوا، نیز اس تسامح کی وجہ سے ہم ان کی نیتوں پر شک نہیں کرتے  کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں ضعیف اور موضوع روایات بیان کیں" ختم شد

عین ممکن ہے کہ حافظ ابن کثیر  رحمہ اللہ نے اس بارے میں نقل کی جانے والی روایات کے ضعیف ہونے کی جانب اشارہ بھی کیا ہو؛ کیونکہ آپ نے لکھا ہے کہ: " کہا گیا ہے کہ آپ نے ستر خواتین کو اپنے عقد میں جگہ دی " اب حافظ ابن کثیر نے "کہا گیا" سے تعبیر کیا ہے تو یہ تعبیر ایسی روایات کے ثابت شدہ نہ ہونے کی جانب اشارہ ہوتا ہے یا کم از کم اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ  اس بات کی انہیں قابل اعتماد سند نہیں ملی۔

پھر

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں