منگل 22 شوال 1440 - 25 جون 2019
اردو

خاوند بیوی کی طرف سے زکاۃ ادا کر سکتا ہے۔

177415

تاریخ اشاعت : 29-06-2015

مشاہدات : 1702

سوال

سوال: میرے پاس بینک میں رقم موجود ہے جس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے، میں جب ملازمت کرتی تھی تو زکاۃ بھی ادا کرتی تھی، لیکن شادی کے بعد میں نے ملازمت چھوڑ دی، میں نے اپنی اس رقم کا منافع اپنے گھر والوں کو ضروریات پوری کرنے کیلئے دے رکھا ہے، چنانچہ اس منافع میں سے میں زکاۃ ادا نہیں کر سکتی، تو کیا میرا خاوند میرے اس مال کی زکاۃ ادا کر سکتا ہے؟ کیونکہ میں نے اپنے خاوند کی وجہ سے ہی ملازمت چھوڑی ہے، اور یہی ملازمت میری آمدن کا ذریعہ تھی، اور اسی سے میں زکاۃ بھی ادا کرتی تھی۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اگر مال کا نصاب  پورا ہونے کے بعد اس پر سال بھی گزر جائے تو اس کی زکاۃ دینا واجب ہے۔

دوم:

زکاۃ ایک عبادت ہے، بلکہ اسلام کا ایک رکن ہے، اور عبادت کیلئے اصول یہ ہے کہ خود ہی کی جائے گی، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، ما سوائے ایسی عبادات کے جن کیلئے استثنا موجود ہے۔

تاہم اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے  زکاۃ ادا کر دے تو زکاۃ ادا ہو جائے گی، بشرطیکہ  اس کی اجازت  حاصل ہو، چاہے اصل  شخص زکاۃ ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، اور اسی طرح زکاۃ ادا کرنے والا خاوند، قریبی رشتہ دار، یا کوئی بھی اجنبی شخص ہو سکتا ہے۔

حجاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کسی کی طرف سے زکاۃ اسی وقت ادا ہوگی جب زکاۃ ادا کرنے والا اصل ذمہ دار کسی کو ذمہ داری سونپے"
اس پر شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"۔۔۔ اس بنا پر اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے اجازت کے بغیر ہی زکاۃ  ادا کرے تو یہ زکاۃ کافی نہ ہوگی؛ کیونکہ زکاۃ ادا کرنے کی اصل ذمہ داری جس پر ہے اس نے اس کو اجازت ہی نہیں دی" انتہی
 "الشرح الممتع" (6/202)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"کیا میرے خاوند کیلئے میری طرف سے زکاۃ ادا کرنے کی اجازت ہے؟ واضح رہے کہ جس مال پر زکاۃ واجب ہو رہی ہے یہ اسی نے مجھے دیا تھا؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"آپ کے مال پر اس وقت زکاۃ واجب ہے جب آپ کے پاس نصاب کے برابر یا نصاب سے زیادہ سونا چاندی، اور دیگر ایسی اشیاء ہو جن پر زکاۃ لاگو ہوتی ہے، تاہم اگر آپ کی طرف سے  خاوند زکاۃ ادا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح آپ کی طرف سے آپ کا والد، بھائی، اور کوئی بھی شخص زکاۃ ادا کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔" انتہی
"مجموع الفتاوى" (14/241)

دائمی فتوی کمیٹی  (9/268)کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:
ایک عورت کے پاس  سونے کے زیورات ہیں، اور اس کے خاوند نے  ان کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو کیا خاتون خود زکاۃ ادا کرے؟ اس کے پاس نقدی رقم بھی نہیں ہے، تو کیا کچھ سونا بیچ کر زکاۃ ادا کر دے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"طلائی سونا ہو یا کسی اور شکل میں  بہر صورت سونے کی مذکورہ مالکن پر  اس سونے کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے، چاہے اس سونے میں سے کچھ کو بیچ کر ادا کرے یا اپنے پاس دیگر مال سے زکاۃ ادا کرے، اور اگر اس کی اجازت سے خاوند یا کوئی اور شخص ادا کر دے تو یہ جائز ہوگا" انتہی
دائمی فتوی کمیٹی برائے علمی تحقیقات و الافتاء
رکن: عبد اللہ بن قعود
رکن: عبد اللہ بن غدیان
نائب صدر برائے کمیٹی: عبد الرزاق عفیفی
صدر: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں