اتوار 15 شوال 1441 - 7 جون 2020
اردو

بہو کو زکاۃ دینا کیسا ہے اور کیا ملک سے باہر کام کرنے والا ملازم زکاۃ کا مستحق ہے؟

179539

تاریخ اشاعت : 22-10-2015

مشاہدات : 1300

سوال

سوال: میرے متعدد سوالات ہیں:
1- کیا بہو زکاۃ کی مستحق ہے؟
2- بیٹے کو کس وقت زکاۃ دی جا سکتی ہے؟
3- میں ملازمت پیشہ شخص ہوں اور اپنے ملک سے باہر ملازمت کرتا ہوں، کچھ لوگ مجھے اپنے مال کی زکاۃ دیتے ہیں تو کیا میں وہ لے سکتا ہوں؟
اور اگر میں زکاۃ نہیں لے سکتا تو گزشتہ سالوں میں لی ہوئی رقم کا کیا کروں گا؟ یہ واضح رہے کہ مجھے اس کی مقدار کا علم نہیں ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

کسی مسلمان کیلئے اپنی زکاۃ ایسے افراد کو دینا جائز نہیں ہے جن کا خرچہ اس کے ذمہ ہے جیسے کہ والدین اور اولاد وغیرہ؛ کیونکہ ایسے کرنے سے زکاۃ دینے والا اپنے سرمایہ کو بچا کر خود کو فائدہ پہنچائے گا، گویا کہ وہ اپنی زکاۃ اپنے پاس ہی رکھ رہا ہے۔

چنانچہ ابن منذر "الاجماع" صفحہ: 57 میں کہتے ہیں:
"اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ اس حالت میں زکاۃ والدین کو دینا منع ہے جب  اولاد کو والدین پر خرچ کرنے کیلئے مجبور کیا جا سکے" انتہی

اسی بات کو ابن قدامہ نے "المغنی" (2/647)  میں برقرار رکھتے ہوئے کہا:
" کیونکہ اگر اولاد والدین کو زکاۃ دے گی تو اس طرح اولاد کو والدین پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، گویا کہ انہوں نے زکاۃ دے کر اپنے ذمہ واجب خرچہ کو بچا لیا ہے، یا دوسرے لفظوں میں زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے، اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا جیسے زکاۃ کے ذریعے والدین کا قرض چکانا جائز ہے" انتہی
مزید تفصیل کیلئے  آپ سوال نمبر: (85088) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

اگر بیٹا غریب ہو اور اس کے پاس اتنی دولت نہ ہو کہ وہ اپنا اور اپنی اہلیہ کا پیٹ پال سکے تو اس صورت میں والد کو چاہیے کہ  اپنے بیٹوں اور بہو پر خرچ کرے ۔

اس بارے میں مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (149438) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

مندرجہ بالا کے مطابق بیٹے اور بہو کو زکاۃ دینا جائز نہیں ہے، بلکہ صاحب استطاعت باپ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نادار غریب بیٹے اور بہو  پر خرچ کرے ۔

سوم:

اگر آپ زکاۃ کے مستحق ہیں تو آپ کو دی جانے والی زکاۃ آپ وصول کر سکتے ہیں، چاہے آپ ملازمت پیشہ ہی کیوں نہیں ہیں کیونکہ  جب تک آپ کی آمدن سے ضروریات پوری نہیں ہوتیں  آپ فقراء اور مساکین کے زمرے سے باہر نہیں  ہیں۔

زکاۃ کے مستحقین اور مصارف کے بارے میں جاننے کیلئے سوال نمبر: (46209) کا مطالعہ کریں۔

اور اگر آپ زکاۃ کے مستحق نہیں ہیں تو آپ کیلئے زکاۃ کی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے، لہذا آپ زکاۃ دینے والوں کو کہہ دیں کہ وہ زکاۃ وصولی کے وقت زکاۃ کا مستحق نہیں تھا، چنانچہ آپ  انہیں ان کی رقم واپس کر دیں تا کہ وہ اس رقم کو شرعی مصرف میں خرچ کریں، یا پھر وہ آپ کو یہ رقم شرعی مصرف میں خرچ کرنے کیلئے اپنا نمائندہ بھی بنا سکتے ہیں، ایک صورت یہ بھی بن سکتی ہے کہ اگر وہ آپ کو دی ہوئی زکاۃ سے در گزر کر لیں اور اپنی طرف سے زکاۃ شرعی مصارف میں لگا دیں تو یہ بھی ممکن ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ " فتاوى أركان الإسلام " صفحہ: 446  میں کہتے ہیں:
"میں یہاں ایک مسئلہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ جاہل لوگوں کو غربت کی حالت میں لوگ زکاۃ دیتے ہیں ، لیکن جب اللہ تعالی انہیں مالدار کر دیتا ہے تو وہ پھر بھی لوگوں کی طرف سے ملنے والی زکاۃ وصول کرتے  رہتے ہیں، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی غریب ہی ہیں لیکن وہ دل میں یہ کہہ کر زکاۃ وصول کر لیتے ہیں کہ : "ہم نے زکاۃ کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ اللہ نے ہماری طرف رزق! بھیجا ہے" ایسا کرنا حرام ہے؛ کیونکہ جسے اللہ تعالی نے غنی کر دیا ہے اب اس کیلئے زکاۃ میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے۔

اور کچھ لوگ زکاۃ وصول کر کے زکاۃ دینے والے شخص کی اجازت کے بغیر کسی اور کو آگے پہنچا دیتے ہیں یہ بھی حرام ہے، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے اگرچہ اس کا گناہ پہلی صورت سے کم ہے لیکن ہے یہ بھی حرام ، چنانچہ اگر زکاۃ دینے والے شخص نے زکاۃ کی رقم آگے کسی اور کو دینے کی اجازت نہیں دی تو پھر وہ اس رقم کا ضامن ہوگا، اور زکاۃ دینے والے کو یہ رقم واپس کرنا ہوگی" انتہی
اس بارے میں مزید کیلئے دیکھیں سوال نمبر: (157136)

اسی صورت میں یہ بھی شامل ہے کہ : زکاۃ دینے والا شخص آپکو زکاۃ آپ کے یا کسی اور علاقے کے فقراء میں تقسیم کرنے کیلئے دیتا ہے، اب اس صورت میں یہ مال آپ کے پاس امانت ہے، اور اصل مالک کی طرف سے آپ مستحقین تک زکاۃ پہنچانے میں اس کی نمائندگی کرینگے، لہذا اب آپ اس میں سے اپنے لیے اصل مالک کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں رکھ سکتے۔

اس بارے میں مزید کیلئے سوال نمبر: (49899)  کا مطالعہ کریں۔

اگر آپکو اس مال کی مقدار کا علم نہیں ہے کہ کتنی رقم زکاۃ کی مد میں آپ نے وصول کی ہے تو آپ اس کا درست اندازہ لگانے کیلئے پوری کوشش کریں، اگر ممکن نہ ہو تو اپنے غالب گمان کے مطابق اتنی رقم ادا کریں کہ آپ کو زکاۃ کی رقم سے بری الذمہ ہونے کا گمان ہونے لگے، اگر چہ بہتر یہی ہے کہ آپ اتنی رقم ادا کریں کہ آپ کو بری الذمہ ہونے کا یقین ہونے لگے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں