منگل 3 ربیع الثانی 1440 - 11 دسمبر 2018
اردو

كيا صف مكمل ہونے كى صورت ميں مقتدى امام كے دائيں جانب كھڑا ہو

1809

تاریخ اشاعت : 25-11-2006

مشاہدات : 4505

سوال

صف ميں جگہ نہ ہونے كى بنا پر امام كے دائيں جانب كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے والے كى نماز كا حكم ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

سنت يہ ہے كہ اگر مقتدى دو يا زيادہ ہوں تو امام ان سے آگے كھڑا ہو گا، انتہائى ضرورت كے بغير امام كے دائيں كھڑا ہونا صحيح نہيں، مثلا اگر مسجد بھر چكى ہو اور امام كے دائيں جانب كے علاوہ كوئى اور جگہ نہ ملے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

اور دو ہوں اور انہيں امام كے ساتھ كھڑا ہونا پڑے تو ايك امام كے دائيں اور دوسرا بائيں كھڑا ہو، دونوں دائيں جانب نہ كھڑے ہو جائيں جيسا كہ يہ شروع ميں تين افراد كے ليے مشروع تھا كہ امام ان كے درميان كھڑا ہوتا تھا پھر اسے منسوخ كر ديا گيا كہ دونوں پيچھے كھڑے ہوں.

لوگوں كا جو عام خيال يہ ہے كہ اگر دو شخصوں كو امام كے ساتھ كھڑا ہونے كى ضرورت پيش آ جائے تو وہ صرف اس كے دائيں جانب كھڑے ہونگے اس كى كوئى اصل نہيں.

ہاں اگر وہ اكيلا ہو تو پھر امام كے دائيں جانب ہى كھڑا ہو گا.

ماخذ: ديكھيں: لقاء الباب المفتوح لابن عثيمين ( 54 / 93 )

تاثرات بھیجیں