جمعرات 20 شعبان 1440 - 25 اپریل 2019
اردو

اگر عید کی قربانی میں متعدد افراد شریک ہوں اور ان میں سے کسی کا مال حرام کی کمائی ہو تو کیا یہ حرام مال قربانی کی قبولیت پر اثر انداز ہوگا؟

سوال

سوال: شرعی علم اور صحیح احادیث سے بھر پور ویب سائٹ بنانے پر اللہ تعالی آپکو جزائے خیر سے نوازے، خاص طور پر آپکا یہ اقدام ایسے وقت میں ہے کہ گمراہی بہت ہی پھیل چکی ہے، الحمد للہ! میں اپنے سوالات کے تشفی بخش جوابات یہاں سے حاصل کرتا ہوں، اور لوگوں کی بھی اس ویب سائٹ کے بارے میں راہنمائی کرتا ہوں، الحمد للہ۔
میرا سوال یہ ہے کہ: اگر ایک قربانی میں متعدد افراد شریک ہوں، مثلا گائے یا اونٹ کی قربانی میں سات افراد شریک بن جائیں، اور ہمارے ساتھ شراکت رکھنے والے ایک فرد کا مال حرام کمائی سے ہو ، اور اس نے اپنے حصہ کی قربانی کیلئے پیسے اسی حرام کمائی سے دئیے ہوں تو کیا اسکا قربانی پر اثر پڑے گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

گائے ، یا اونٹ کی قربانی میں سات افراد کا شریک ہونا جائز ہے، جیسے کہ صحیح مسلم : (1318) میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "ہم نے حدیبیہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ اونٹ اور گائے کی قربانی سات، سات افراد کی طرف سے کی تھی"

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اونٹ یا گائے میں سات افراد کا حصہ دار ہونا جائز ہے، چاہے واجب [قربانی] ہو یا نفل، چاہے سب لوگ حصہ بطورِ عبادت ڈال رہے ہوں ، یا کچھ صرف گوشت لینے کیلئے حصہ ڈالیں"انتہی

" المغنی " (3/296)

مزید معلومات کیلئے سوال نمبر: (45757) ملاحظہ کریں۔

اگر کسی قربانی میں سات افراد شریک ہوں تو ہر ایک شراکت دار کا حصہ ساتواں ہوگا، اور اس صورت میں اگر کسی شراکت دار کا قربانی کیلئے دیا گیا مال حرام کا تھا، اور بقیہ شراکت داروں کو اسکا علم بھی نہیں ہوا تو اس سے دیگر شراکت داروں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ ہر کوئی اپنے کئے کا اجر پائے گا، اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

اور اگر اسکی حالت کے بارے میں شراکت داروں کو علم ہو تو ایسی صورت میں حرام مال خرچ کرنے کیلئے اسکی مدد کرنا ، اور حرام مال سے مستفید ہونے کیلئے تعاون کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ ان شراکت داروں پر ضروری ہے کہ اسے حرام کمائی سے روکیں، اس کے لئے وہ قطع تعلقی بھی کرسکتے ہیں ، تا کہ حرام کمائی سے بچے اور اپنے کام سے باز آجائے۔

آخر میں ویب سائٹ کے بارے میں آپکے تعریفی کلمات کا خیر مقدم کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اور آپکو اپنی اطاعت کی توفیق دے، اور ہم سب کو خیر کی طرف دعوت دینے والا بنا دے، ساتھ میں ہم آپکو لوگوں کی راہنمائی پر خوش خبری بھی سنا دینا چاہتے ہیں جسے مسلم نے (2674) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص کسی کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے تو اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا ہدایت پر چلنے والے کو ملے گا، اور کسی کے اجر میں بالکل بھی کمی نہیں کی جائے گی)

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں