جمعرات 17 ربیع الاول 1441 - 14 نومبر 2019
اردو

نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے لئے درود تاج بدعتی اور غلط الفاظ پر مشتمل ہے۔

192967

تاریخ اشاعت : 07-06-2019

مشاہدات : 1018

سوال

درودِ تاج کے کیا الفاظ ہیں اور اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

درود تاج نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے لئے پڑھے جانے والے بدعتی اور خود ساختہ الفاظ کو درود تاج کہتے ہیں، درود کے یہ الفاظ غلط ہیں ان پر اعتماد کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس درود کے الفاظ میں شرک اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں غلو پایا جاتا ہے، نیز اس درود کے الفاظ احادیث مبارکہ میں صحیح ثابت شدہ الفاظ سے بھی تصادم رکھتے ہیں؛ تو ان الفاظ پر اعتماد کرنے سے ایک تو درود کے مسنون الفاظ چھوٹ جائیں گے اور دوسرا یہ کہ بدعتی الفاظ مسنون الفاظ کا متبادل بن جائیں گے۔

درود تاج کے الفاظ میں موجود متعدد شرعی قباحتوں میں سے چند یہ ہیں:

اول:

درود تاج میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپ : " دافع البلاء والوباء والقحط والمرض والألم " یعنی: آپ بلاؤں، وباؤں ، قحط سالی، بیماریوں اور تکالیف کو دور کرنے والے ہیں۔

تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں یہ کہنا شرکیہ بات ہے؛ کیونکہ بلائیں اور وبائیں ٹالنے والی ، مشکل کشا اور حاجت روا صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

 ترجمہ: اور اگر اللہ تعالی تمہیں کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس کو اللہ کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ، اور اگر وہ تمہارا کوئی بھلا کر دے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔[ الأنعام:17]

ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

ترجمہ: بھلا کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کے جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے؟ تم لوگ تھوڑا ہی غور کرتے ہو۔ [النمل: 62]

تمام کے تمام انبیائے کرام پر جب بھی کوئی تکلیف آتی تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کرتے تھے، اللہ تعالی نے متعدد انبیائے کرام کے واقعات قرآن مجید میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

 وَنُوحًا إِذْ نَادَى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ

 ترجمہ: اور نوح نے بھی جب اس سے قبل ہمیں پکارا، تو ہم نے ان کی پکار سن لی، پس انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی۔ [الانبیاء: 76]

وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ * فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ

 ترجمہ: ایوب کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ [83] تو ہم نے ان کی سن لی اور جو تکلیف انہیں تھی اسے دور کر دیا ۔ [الانبیاء: 83، 84]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی کسی مریض کی تیمار داری کے لئے جاتے یا آپ کے پاس کسی بیمار کو لایا جاتا تو فرماتے:   أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا  یعنی: لوگوں کے پروردگار! تکلیف ختم فرما دے، اور تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے بغیر کوئی شفا نہیں، شفا ایسی دے کہ جس سے کوئی بیماری باقی نہ رہے۔" اس حدیث کو امام بخاری: (5675) اور مسلم : (2191)نے روایت کیا ہے۔

جبکہ صحیح بخاری : (5742)کے الفاظ میں :  لَا شَافِي إِلَّا أَنْتَ  کا اضافہ بھی ہے۔

دوم:

درود تاج میں جبریل علیہ السلام کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: " جبريل خادمه" یعنی جبریل ان کے خادم ہیں، یہ خود ساختہ اور بدعتی جملہ ہے، وحی لانے والے فرشتے جبریل علیہ السلام کے بارے میں ایسا کہنا جائز نہیں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم ہیں، اللہ تعالی نے تو انہیں بہترین صفات سے متصف کیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

 نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ * عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ

 ترجمہ: آپ کے دل پر اسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے تا کہ آپ خبردار کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔ [الشعراء: 193، 194]

  إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ * ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ * مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ 

 ترجمہ: بے شک یہ یقینا ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کا قول ہے جو بہت معزز ، بڑی قوت والا اور عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے، وہاں اس کی تابعداری کی جاتی ہے اور وہ امین بھی ہے۔ [التكوير: 19 – 21]

سوم:

درود تاج بنانے والوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صفات میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آپ : "راحة العاشقين" یعنی عاشقوں کے لئے راحت ہیں، تو یہ بات بھی غلط ہے؛ کیونکہ عشق محبت میں غلو کا نام ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت میں غلو نہیں ہوتا۔ نیز لفظ عشق عرب کے ہاں صرف اسی قلبی تعلق کے بارے میں بولا جاتا ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے لفظ عشق کا اطلاق شرعی محبت پر نہیں بولا جا سکتا۔

ابن الجوزی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
"عرب اہل لغت کے ہاں عشق کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے جس میں مباشرت پائی جائے" ختم شد
"تلبيس إبليس" (ص 153)

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

درود تاج کے ان الفاظ پر اعتماد کرنا بالکل بھی جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں اور ویسے بھی یہ خود ساختہ اور من گھڑت الفاظ ہیں، درود تاج وہی شخص پڑھتا ہے جو احادیث میں ثابت شدہ درود سے نابلد ہے۔

حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام نے آپ سے عرض کیا تھا کہ: "اللہ کے رسول! ہم نے آپ پر سلام پڑھنا تو سیکھ لیا اب آپ پر صلاۃ کیسے پڑھیں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تم کہو:
 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ  ترجمہ: اے اللہ! محمد -صلی اللہ علیہ و سلم -پر رحمت نازل فرما اور آپ کی آل پر بھی جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے ۔ اے اللہ! تو محمد -صلی اللہ علیہ و سلم -پر برکت نازل فرما اور آپ کی آل پر بھی جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (6357) اور مسلم : (406)نے روایت کیا ہے۔

اس لیے جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر بہترین انداز میں صلاۃ اور درود پڑھنا چاہتا ہے تو وہ ایسے ہی درود پڑھے جیسے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کرام کو سکھایا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے درود سے افضل کوئی درود نہیں ہو سکتا، چنانچہ اگر کوئی شخص ان مسنون الفاظ کو چھوڑ کر بدعتی اور صحیح عقیدے سے متصادم الفاظ کو اپنائے تو یہ اس کے لئے بہت ہی زیادہ نقصان کا باعث ہے۔

امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جو شخص بھی اپنی عبادات اور وظائف میں اپنے آپ کو سنت نبوی پر کار بند نہیں رکھتا اسے ندامت اٹھانی پڑے گی، وہ راہب بن جائے گا اور اس کا مزاج بگڑ جائے گا۔ ایسے شخص کو نہایت رؤف و رحیم اور اہل ایمان کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباعِ سنت سے کنارہ کشی کی بنا پر ڈھیروں بھلائی سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ " ختم شد
"سير أعلام النبلاء" (3/85)

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کچھ کتابوں میں جو مسجع درود پائے جاتے ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح بیان کی گئی ہوتی ہے، بلکہ بسا اوقات ان اوصاف میں ایسی صفات بھی بیان کر دی جاتی ہیں جو صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہی جائز ہیں، تو درود کے ایسے تمام الفاظ سے بچیں، بلکہ ان کے پاس سے ایسے فرار ہو جائیں جیسے آپ شیر کو دیکھ کر دوڑ لگاتے ہیں، اور آپ کو ان الفاظ میں موجود سجع کلامی دھوکے میں نہ ڈالے؛ ممکن ہے کہ ان مسجع الفاظ سے آنکھیں تو چھلک جائیں اور دل پگھل جائیں، لیکن پھر بھی آپ درود کے وہی الفاظ پڑھیں جو ثابت شدہ ہیں اور بنیادی قواعدِ شریعت کے مطابق ہیں، نبوی رہنمائی اور دلائل کے بغیر بنائے گئے خود ساختہ اور من گھڑت درود چھوڑ دیں۔" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب" (8/ 2)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (88109) اور (174685) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں