ہفتہ 15 شعبان 1440 - 20 اپریل 2019
اردو

قیام اللیل دو ، دو رکعت ادا کرنے کے قائلین معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

195355

تاریخ اشاعت : 09-06-2015

مشاہدات : 3172

سوال

سوال: کیا قیام اللیل میں چار رکعت ایک سلام کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے؟ میں نے سنا ہے کہ ایک صحابی عشاء کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے اور پھر اپنی قوم میں جا کر انکو عشاء کی نماز کی امامت کرواتےتھے ، جو صحابی کی نفل ہوتی تھیں، اگر چارچار رکعت کر کے رات کا قیام کرنا جائز نہیں ہے، تو اس صحابی کے واقعہ میں وارد شدہ طریقے کے بارے میں کیا توجیہ ہوگی؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

فقہائے کرام کے قیام اللیل کی [عددی]کیفیت کے بارے میں اختلاف ہے،  اس بارے میں انکے دو قول ہیں:

1- قیام اللیل کی چار رکعتوں کے بعد سلام پھیرا جائے، دو رکعتوں کے بعد سلام مت پھیریں، تاہم اگر دو رکعت  بھی ادا کیں تو اس کی نماز صحیح ہوگی، اور اس پر کچھ نہیں ہوگا، یہ موقف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔

امام سرخسی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"رات کو قیام  میں دو  دو ،یا چارچار، یا  چھ چھ ،یا آٹھ آٹھ رکعت ادا کر سکتے ہیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ (آپ رات کو پانچ رکعتیں، سات، نو، گیارہ، یا تیرہ رکعت ادا کرتے تھے)
لیکن ان میں سے چار، چار رکعت ادا کرنا زیادہ اچھا ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہی موقف تھا۔

ہماری دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت ہے کہ  ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رمضان میں قیام  اللیل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "آپ کا قیام رمضان و غیر رمضان میں برابر تھا، آپ عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت ادا کرتے، تم ان چار رکعتوں کی عمدگی اور طوالت کے بارے میں نہ ہی پوچھو، ا سکے بعد پھر چار رکعت ادا کرتے، تم ان چار رکعتوں کی عمدگی اور طوالت کے بارے میں بھی نہ ہی پوچھو ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ادا کرتے تھے"
اور اس لئے بھی کہ چار رکعت اکٹھی ادا کرنے کی وجہ سے عبادت میں تسلسل اور پائیداری رہتی ہے، اور عبادت میں تسلسل افضل ہے۔
نفلی عبادت بھی چونکہ فرائض کی ہم صورت ہوتی ہے، اور رات کی نماز میں عشاء کی نماز بھی آتی ہے، جو کہ چار رکعت اکٹھی ادا ہوتی ہے، تو اسی طرح رات کے نفل بھی چار رکعت اکٹھے ہی ادا ہونگے" انتہی
" المبسوط " (1/158)

2-  رات کی نماز دو ، دو رکعت کر کے ہی ادا کرنا ضروری ہے، اس لئے ہر دو رکعت کےبعد سلام پھیرنا لازمی ہے، یہ موقف حنبلی فقہائے کرام کا ہے، چنانچہ ان کے ہاں اگر دو  رکعت سے زائد  نماز ہوگی تو نماز باطل ہو جائے گی۔

اس بارے میں ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نفل نماز دو، دو رکعت ہے، یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے۔
نفل دو قسم کے ہوتے ہیں: رات کے نفل، اور دن کے نفل، چنانچہ ان میں سے رات کے نفل تو صرف دو، دو رکعت کر کے ادا کرنا ہی جائز ہے، یہ موقف بہت سے اہل علم کا ہے، اسی کے ابو یوسف اورمحمد قائل ہیں، جبکہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر چاہو تو دو، دو کر کے  ادا کرو، اور چاہو تو چار، چھ، یا آٹھ بھی پڑھ سکتے ہو"
ہماری دلیل یہ ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (رات کی نماز دو، دو رکعت ہے) متفق علیہ۔
اسی طرح عائشہ رضی اللہ  عنہا کہتی ہیں کہ : "نماز کی چابی طہارت  ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد سلام  ہے"اسے اثرم نے روایت کیا ہے۔" انتہی
" المغنی " (2/91)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر رات اور دن کی [نفل] نماز  دو، دو رکعت ہی ہے، تو اگر انسان تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہو گیا تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا؟
جواب: یہ ہے کہ تیسری رکعت میں عمداً کھڑا ہونے کی وجہ سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی؛ کیونکہ اس نے [ایک سلام کیساتھ]دو رکعت سے زیادہ  نماز پڑھنے کی کوشش کی ، جس سے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح حکم کی مخالفت کی، اور جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرے تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم کی مخالفت کرنے والے کے بارے میں فرمایا: (جو شخص کوئی ایسا کام کرے جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں تھا، تو وہ رد ہوگا) اسی لئے امام احمد رحمہ اللہ کہتےہیں،  اگر کوئی شخص رات کی [نفل]نماز میں  تیسری رکعت کیلئے  کھڑا ہو گیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی فجر کی نماز میں  تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوگیا، اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جو شخص فجر کی نماز میں جان بوجھ کر  تیسری رکعت کیلئے کھڑا  ہو جائے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، اس بات پر سب کا اجماع ہے، تو بالکل یہی حکم قیام اللیل کے نفلوں کا ہے، چنانچہ جان بوجھ کر تیسری رکعت  میں کھڑا ہونے  والے کی نماز باطل  ہو جائے گی" انتہی
" الشرح الممتع على زاد المستقنع " (4/ 77)

3-  رات کی نماز دو، دو رکعت کر کے پڑھنا مستحب ہے، لیکن اگر کوئی شخص چار رکعت اکٹھی پڑھ کر سلام پھیرے تو اس کی نماز درست ہوگی، اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے، لیکن  مستحب  عمل کی مخالفت ہے، یہ موقف مالکی، اور شافعی فقہاء کا ہے، تاہم ان دونوں میں بھی تھوڑا سا اختلاف  پایا جاتا ہے۔

چنانچہ نفراوی [مالکی  فقیہ] رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نفل نماز دو، دو رکعت ہوگی، اور دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیر تے ہوئے چار رکعت اکٹھی ادا کرنا مکروہ ہے" انتہی
" الفواكہ الدوانی" (1/201)

اور امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"افضل یہی ہے کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے، چاہے رات کے نوافل ہوں یا دن کے، لہذا ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرنا مستحب ہے، تاہم اگر کوئی ایک سلام کے ساتھ متعدد رکعات پڑھے ، یا ایک رکعت نفل پڑھے تو ہمارے ہاں جائز ہے" انتہی
" شرح مسلم " (6/30)

اور امام رملی شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"رات یا دن کے وقت نفل پڑھنے والے کیلئے افضل یہی ہے کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرے، یعنی ابتدا سے ہی دو رکعت ادا کرنے کی نیت کرے، اور اگر مطلق نیت کی ہو تو دو رکعت پر ہی اکتفا کرے؛ کیونکہ حدیث ہے کہ: (دن اور رات کی نماز دو، دو رکعت ہے) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ [نوافل کی]ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے؛ کیونکہ ظہر کی نماز دو، دو رکعت ادا نہیں کی جاسکتی۔ جبکہ طاق نفل ادا کرنا مستحب نہیں ہے" انتہی
" نهاية المحتاج " (2/130)
شبراملسی نے  رملی رحمہ اللہ کی بات: " طاق نفل ادا کرنا مستحب نہیں ہے " پر اپنے "حاشیہ" میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: "یعنی مکروہ نہیں ہے، چاہے ایک رکعت نفل پڑھے" انتہی مختصرا

مزید کیلئے سوال نمبر: (45268)

دوم:
سوال میں مذکور صحابی  جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کرتے اور پھر بعد میں اپنے قبیلے والوں کو جاکر عشاء کی نماز پڑھاتے تھے، یہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا یہ واقعہ امام بخاری: (6106) اور مسلم: (456) میں  جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ عشاء کی نماز پڑھتے، اور پھر اپنے قبیلے میں واپس جاکر انہیں عشاء کی نماز پڑھاتے"

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والا واقعہ دن یا رات کے وقت مطلق نوافل ادا کرنے  سے متعلق نہیں ہے، بلکہ  اس کا تعلق ایک دوسرے مسئلہ سے ہے، اور وہ ہے: اکیلے فرض نماز پڑھنے کے بعد  جماعت کا ثواب حاصل کرنے  کیلئے ، یا اکیلئے نماز پڑھتے شخص کیساتھ مل کر اسے جماعت کا ثواب پہچانے کی غرض سے فرض نماز کی دوبارہ ادائیگی کرتے ہوئے نفل پڑھنا،جیسے کہ ابو داود: (574) میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں ہے کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا:(کوئی ہے جو اس شخص پر صدقہ کرے، اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟)[تا کہ اسے جماعت کا ثواب مل جائے] اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح سنن ابو داود میں" صحیح قرار دیا ہے۔ "

ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ادا کی گئی نماز فرض ہوگی، اور دوسری  نفل ہوگی، اسی طرح یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ  امام کیساتھ  نماز کو دوبارہ پڑھنا ایک عام حکم ہے، اس کی کوئی تخصیص یا تعیین نہیں ہے" انتہی
"التمهيد" (4/257)

مجد الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "المنتقی" میں اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے: "باب ہے : دوبارہ جماعت، اور طواف کی دو رکعات کسی بھی وقت دوبارہ پڑھنے کے بیان میں"

شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"[دلائل کے] ظاہری مفہوم سے یہی لگتا ہے کہ پہلی نماز باجماعت ادا کی گئی ہو یا انفرادی دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ  اصول یہ ہے کہ: " لِأَنَّ تَرْكَ الِاسْتِفْصَالِ فِي مَقَامِ الِاحْتِمَالِ يَنْزِلُ مَنْزِلَةَ الْعُمُومِ فِي الْمَقَالِ "یعنی: احتمال  کے وقت تفصیل بیان نہ کرنا  عموم کا متقاضی ہوتا ہے۔
ابن  عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:  جمہور فقہائے کرام  اس بات کے قائل ہیں کہ: جس شخص نے اپنے گھر میں یا کسی کے گھر میں انفرادی نماز ادا کی اور  پھر بعد میں اسی نماز کی جماعت  مل گئی تو وہ امام کے ساتھ مل جائے، جبکہ جس شخص نے پہلی نماز مختصر سے لوگوں کیساتھ باجماعت ادا کی تو  وہ دوسری جماعت کیساتھ نماز پڑھنا واجب  نہیں ہے، چاہے دوسری جماعت پہلی سے بڑی ہو یا چھوٹی، اگر وہ دوسری جماعت کے ساتھ بھی نماز پڑھنے کا پابند ہو  تو اسے تیسری، چوتھی اور اس سے بھی زیادہ جماعتوں کیساتھ نماز ادا کرنا ہوگی، اور اس بات کا غلط ہونا کسی سے مخفی نہیں ہے" انتہی
"نيل الأوطار" (3/112)

مزید کیلئے دیکھیں: "الموسوعۃ الفقهیۃ الكويتیۃ" (27/173-175)

شاید یہی وجہ ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ  کا واقعہ ہمارے اس مسئلہ  سے تعلق نہیں رکھتا -واللہ  اعلم- کسی بھی اہل علم نے  اپنے موقف کی تائید کیلئے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ  کے عمل  کو دلیل نہیں بنایا، کہ دو سے زائد نفل ادا کرنا ایک سلام کے ساتھ جائز ہے، اور نہ ہی  ہمیں دو رکعت سے زائد منع کرنے والوں سے اس حدیث  کا کوئی  جواب  ملا ہے، چنانچہ انہوں نے  دو رکعت سے زیادہ نفل  ایک سلام کیساتھ پڑھنے کی اجازت نہیں دی ، جیسے کہ ہم نے پہلے اس کے بارے میں تفصیلی گفتگو  ذکر کردی ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں