منگل 4 صفر 1442 - 22 ستمبر 2020
اردو

اگر بیٹا اپنے یومیہ جیب خرچ سے صدقہ کرے تو کیا اس کا اجر والد کو ملے گا یا بیٹے کو؟

سوال

میں طالب علم ہوں اور اپنا جیب خرچ اپنے والد سے لیتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ رقم مسجد کی تعمیر میں دے دوں، تو اس صورت میں ثواب مجھے ملے گا یا میرے والد کو؛ کیونکہ رقم تو وہی مجھے دیتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

آپ کی ضروریات اور جیب خرچ کے لئے آپ کو جو رقم والد نے دی ہے تو اللہ تعالی کے فضل و کرم کو مد نظر رکھتے ہوئے امید یہی ہے کہ: مسجد کی تعمیر کے لئے رقم دینے کا پورا اجر آپ کو ملے گا، اور اسی طرح آپ کے والد نے یہ رقم کما کر آ پ کو دی تو انہیں بھی آپ کے برابر اجر ملے گا۔

صحیح بخاری: (1440) اور مسلم: (1024) میں روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی کو کھانا کھلائے اور وہ [گھر کے معاملات میں ] خرابی پیدا کرنے والی نہ ہو تو اس کو کھانا کھلانے کا اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے برابر اجر ملے گا، نیز [گھر کے]خزانچی کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا۔ مرد کو کمانے کی وجہ سے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے) بعض روایات میں "عورت کو صدقہ کرنے کی وجہ سے" کے الفاظ ہیں۔

لیکن اس عمل کی ایک شرط ہے وہ یہ کہ حقیقی مالک کا مال تباہ نہ ہو؛ مثلاً: بیٹا یا بیوی اتنا خرچ کر دیں کہ گھر کے سربراہ باپ کا دیوالیہ نکل جائے، یا معمول سے ہٹ کر بہت زیادہ مقدار میں صدقہ کر دیا جائے، کیونکہ ایسی صورت میں صاحب المال یعنی گھر کے سربراہ کی اجازت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔

اس بارے میں مزید کے لئے آپ "فتح الباري" (3/303)کا مطالعہ کریں۔

نیز اس کی تفصیل آپ کو سوال نمبر: (103966) کے جواب میں بھی مل سکتی ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب