منگل 10 ربیع الثانی 1440 - 18 دسمبر 2018
اردو

ختنے كا حكم

20015

تاریخ اشاعت : 24-06-2008

مشاہدات : 6612

سوال

ختنہ كرنے كا حكم كيا ہے ؟
اور بعض لوگو عضو تناسل يا پھر ناف كے نچلے حصہ كى كھال اتارتے ہيں اس كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ختنہ كرنا تو سنت اور مسلمانوں كا شعار ہے، اس كى دليل صحيحين كى درج ذيل حديث ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" پانچ اشياء فطرتى ہيں: ختنہ كرنا، زيرناف بال مونڈنا، مونچھيں كاٹنا اور ناخن كاٹنا، اور بغلوں كے بال اكھيڑنا "

چنانچہ اس حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ابتدا ختنہ سے كى اور بتايا كہ يہ فطرتى سنت ميں سے ہے.

اور شرعى ختنہ يہ ہے كہ:

عضو تناسل كے سرے كو ڈھانپنے والى چمڑى كاٹى جائے، ليكن جو لوگ پورے عضو تناسل كى كھال اتارتے ہيں، يا پھر اگلے حصہ كى بجائے عضو تناسل كے ارد گرد والى چمڑى بھى اتارتے ہيں، جيسا كہ بعض وحشى ممالك ميں ايسا كيا جاتا ہے اور وہ اپنى جہالت كى بنا پر اس شرعى ختنہ سمجھتے ہيں تو يہ صحيح نہيں، يہ تو شيطانى طريقہ ہے جو شيطان نے ان كے ليے مزين كر كے ركھ ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ جس كا ختنہ كيا جارہا ہے اس كے ليے بھى تكليف دہ اور عذاب ہے.

اور ايسا كرنے ميں سنت محمديہ اور شريعت اسلاميہ كى بھى مخالفت پائى جاتى ہے، جو كہ بالكل آسان اور سہل شريعت ہے اور آسان قوانين لائى اور انسانوں كى حفاظت كرتى ہے.

ايسا كرنا كئى ايك وجوھات كى بنا پر حرام ہے:

1 - سنت ميں يہى وارد ہے كہ صرف عضو تناسل كے اگلے حصہ پر آنے والى چمڑى ہى كاٹى جائے.

2 - ايسا كرنا انسانى جان كے ليے تكليف دہ اور عذاب ہے، اور اس كا مثلہ كرنا ہے، اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مثلہ كرنے اور جانوروں كو باندھ كر مارنے اور ان سے كھيلنے، يا پھر اس كے اعضاء كاٹنے سے منع فرمايا ہے، تو اولاد آدم كو ايسى تكليف اور اذيت دينى تو بالاولى زيادہ گناہ كا باعث ہوگى.

3 - يہ احسان اور نرمى و شفقت كے بھى مخالف ہے، اسى شفقت اور ا حسان و نرمى كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى نے ہر چيز پر احسان كرنا لكھ ديا ہے " الحديث.

4 - بعض اوقات ايسا كرنے سے تو اس شخص كا خون جارى ہى رہتا ہے اور بند نہيں ہوتا جس سے اس كى موت واقع ہو جاتى ہے، جو كہ جائز نہيں كيونكہ فرمان بارى تعالى ہے:

اور تم اپنے ہاتھوں كو ہلاكت ميں مت ڈالو .

اور ايك جگہ پر ارشاد بارى تعالى ہے:

اور تم اپنى جانوں كو قتل مت كرو، يقينا اللہ تعالى تم پر بہت رحم كرنے والا ہے .

اسى ليے علماء كرام نے بيان كيا ہے كہ اگر بڑے شخص كى موت كا خدشہ ہو تواس كا ختنہ كرنا ضرورى نہيں.

اور رہا يہ مسئلہ يہ كہ ايك مقررہ دن لوگوں كو ختنہ كے ليے اكٹھا كرنا اور لڑكے كو بے لباس اور ننگى حالت ميں عورتوں اور مردوں كے سامنے كھڑا كرنا تو يہ حرام ہے، كيونكہ ايسا كرنے ميں شرمگاہ ننگا كرنا ہے جس كے متعلق دين اسلامى كا حكم ہے كہ شرمگاہ چھپا كر ركھى جائے اور اسے كسى كے سامنے ننگا نہ كيا جائے.

اسى طرح اس موقع پر مرد و عورت كا اختلاط اور ميل جول بھى جائز نہيں، كيونكہ اس ميں فتنہ و فساد اور شريعت مطہرہ كى مخالفت ہوتى ہے.

ماخذ: ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ علامہ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 4 / 423 )

تاثرات بھیجیں