جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

خنزير كے مشتقات پر مشتمل حرام كھانے

20039

تاریخ اشاعت : 08-07-2008

مشاہدات : 5051

سوال

وہ كونسى اشياء ہيں جو كھانے ميں ملائى جائيں تو اسے حرام كر ديتى ہيں ؟ ہالينڈ ميں خبروں كے دوران چائينى ذائقہ جسے ( ve-tsn ) كا نام ديا جاتا ہے كے متعلق ايك رپورٹ پيش كى گئى كہ يہ خنزير كى انزيمٹ اور پروٹين پر مشتمل ہوتى ہے تو كيا يہ مسلمانوں پر حرام كر ديتى ہے ؟
جب كوئى شخص ماركيٹ جاتا ہے تو اكثر اشياء ايسى ہوتى ہيں جن ميں ( E ) اور ( C ) مواد بطور رنگ اور ذائقہ كے پايا جاتا ہے، اور اس كے مصدر كا علم نہيں كہ يہ مواد كس چيز سے بنا ہے، بہت سارے لوگ اسے بغير كسى تردد كے خريد ليتے ہيں جو كہ شيطان كى مصلحت ميں ہے.
ميں اپنے خاندان اور اپنے دوست و احباب كو اس جہالت سے بچا كر ركھنا چاہتا ہوں، كيا كوئى شخص ميرا تعاون كرتے ہوئے مجھے حرام مواد پر مشتمل اشياء كى فہرست دے سكتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

مباح كھانے والى اشياء ميں جب كوئى حرام چيز مثلا خنزير كا كوئى بھى جز شامل كر ديا جائے تو يہ حرام ہو جائيگى، چاہے اس كى مقدار كتنى بھى قليل ہى ہو، يا پھر اس كا نام تبديل كر ديا گيا ہو.

اسى طرح مسلمان شخص كے ليے ضرورى ہے كہ وہ اپنى خوراك ميں جدوجھد اور كوشش كرے، اور اگر كچھ ايسے نام ہوں جو اس كھانے كے مركب ميں شامل ہوں تو اس كے ليے واجب ہے كہ وہ اس كے متعلق دريافت كرے، يا پھر ورع اور تقوى اختيار كرتے ہوئے اسے ترك كر دے.

ماخذ: الشیخ سعد الحمید

تاثرات بھیجیں