ہفتہ 17 رجب 1440 - 23 مارچ 2019
اردو

وقت سے قبل نماز ادا كرنا

20788

تاریخ اشاعت : 18-08-2006

مشاہدات : 4384

سوال

كيا عشاء كى نماز متعين وقت كے بدلے سونے سے قبل ادا كرنى جائز ہے دليل كے ساتھ جواب دينے پر آپ كا شكريہ ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يقينا مومنوں كے ليے وقت مقررہ پر نماز كى ادا كرنى فرض كى گئى ہے.

يعنى اس كے اوقات مقرر ہيں ان ميں ہى ادا كرنا ہو گى، نماز پنجگانہ كے تفصيلى اوقات سوال نمبر ( 9940 ) كے جواب ميں بيان ہو چكے ہيں.

" مسلمانوں كا اجماع ہے كہ وقت سے قبل نماز ادا كرنى صحيح نہيں ہو گى، اور اگر نماز وقت سے قبل ادا كى گئى ہو تو اس كى درج ذيل صورتيں ہيں:

ـ اگر جان بوجھ كر وقت سے قبل نماز ادا كى جائے تو اس كى نماز باطل ہے، اور وہ گنہگار ہو گا.

ـ اور اگر اس نے عمدا اور جان بوجھ كر ايسا نہيں كيا، بلكہ اس كا خيال تھا كہ نماز كا وقت شروع ہو چكا ہے، تو اس صورت ميں گنہگار نہيں، اور اس كى يہ نماز نفل شمار ہو گى، ليكن اسے فرضى نماز دوبارہ ادا كرنا ہو گى، اس ليے كہ وقت نماز كى شروط ميں شامل ہے " انتہى

ماخوذ از: الشرح الممتع الشيخ ابن عثيمين ( 2 / 88 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں