سوموار 10 محرم 1444 - 8 اگست 2022
اردو

غیر مسلم کے ساتھ مرابحہ کا لین دین کرنے کا حکم

214856

تاریخ اشاعت : 06-08-2022

مشاہدات : 70

سوال

اگر کوئی غیر مسلم سرمایہ کار ایک مکان خرید کر اسے پورے قانونی طور پر اپنے قبضے میں لے لیتا ہے، اور پھر کچھ نفع رکھ کر مجھے ادھار پر فروخت کر دیتا ہے، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ یا اس طرح کی خرید و فروخت کسی اسلامی بینک کے ذریعے ہونا ہی ضروری ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

مرابحہ کا حکم پہلے گزر چکا ہے، اور اس کے جائز ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:
پہلی شرط: آگے فروخت کرنے سے پہلے بینک یا کمپنی مکان کو مکمل طور پر اپنی ملکیت میں لے لے۔

دوسری شرط: خریداری کی خواہش رکھنے والے کو فروخت کرنے سے پہلے مکان کو اپنے قبضے میں کر لے۔

بیع مرابحہ کے حوالے سے مزید مطالعہ کے لیے آپ سوال نمبر: (36408 ) کا مطالعہ کریں۔

دوم:

بیع مرابحہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ کوئی اسلامی بینک ہی ہو، چنانچہ مذکورہ بالا شرائط جہاں بھی پوری ہو جائیں تو ان کے ساتھ بیع مرابحہ جائز ہے چاہے اس چیز پر سرمایہ کاری کرنے والا کوئی غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اس لیے غیر مسلم کے ساتھ بھی بیع مرابحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ غیر مسلموں اور کافروں کے ساتھ تجارتی لین دین کیے جا سکتے ہیں، نیز ان کے ساتھ تجارت ممنوعہ دوستی میں شامل نہیں ہے، نہ ہی ان کے ساتھ غیر شرعی لین دین میں ملوث ہونا شمار ہو گی، یا ان کے حرام مالوں کو کھانا بھی شمار نہیں ہو گا، بشرطیکہ مسلمان ان غیر مسلموں کے ساتھ جو بھی کاروباری معاہدہ کر رہا ہو وہ مباح ہو۔

امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری میں باب قائم کرتے ہیں:
"مشرکین اور جنگی افراد سے خرید و فروخت کا باب"
اس باب کے تحت انہوں نے سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کی کہ: "ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے کہ ایک مشرک لمبے قد اور بکھرے بالوں والا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے پوچھا: بکری بیچو گے یا تحفہ دو گے؟، تو اس شخص نے کہا: میں بیچ سکتا ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے ایک بکری خرید لی۔" بخاری: (2216)

ایسے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودی سے اناج ادھار پر خریدا اور اس کے پاس اپنی ذرہ گروی رکھوائی۔ اس حدیث کو امام بخاری: (2509) اور مسلم : (1603)نے روایت کیا ہے۔

علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ سیدہ عائشہ ضی اللہ عنہا کی اس حدیث کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس میں کافروں کے ساتھ تجارت کرنے کا جواز ہے، نیز ان کے ساتھ ہونے والے معاملات کو فاسد نہیں سمجھا جائے گا" ختم شد
" إحكام الأحكام " (2 /145)

ایسے ہی علامہ ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کافروں کے ساتھ لین دین کرنا جائز ہے، ہاں ایسی چیزوں کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے جن سے حربی کافر مسلمانوں کے خلاف جارحیت کریں۔" ختم شد
" فتح الباری " از ابن حجر (4/ 410)

خلاصہ یہ ہوا کہ:
اگر مرابحہ میں بنیادی شرعی شرائط پائی جائیں تو غیر مسلموں کے ساتھ مرابحہ جائز ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب