بدھ 15 ذو القعدہ 1440 - 17 جولائی 2019
اردو

باپ کی حرام کمائ سے بیٹے کا خرچہ

215

تاریخ اشاعت : 26-07-2003

مشاہدات : 4723

سوال

اگرآپ چھوٹی عمرمیں ہوں اورآپکے والدین کے پاس ایسا مال آۓ جوحرام ہو ،مثلا وہ کساد بازاری اورکرایہ کا گھر حاصل کرنے میں پگڑی وغیرہ دے کرسودی معاملات کرتے ہوں ۔
تومیرا سوال یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں یہ بیان کیا گيا ہے کہ اگر کھانا پینا اورلباس حرام کا ہو تودعا اورنماز قبول نہیں ہوتی ، تواگر مال تھوڑی مقدار میں بھی حرام ہو اورآپ کی عمرابھی چھوٹی ہو توکیا آپ پر یہ حدیث فٹ ہوتی ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
اولاد کا خرچہ والد پر شرعی اعتبارسے واجب ہے اوراس کے ذمہ ہے کہ وہ اولاد کوکھانا پینا اورلباس اوررہائش وغیرہ مہیا کرے ، اوراگربیٹا ضرورت مند ہو تواس کے لیۓ جائز ہے کہ وہ اپنے والد کی کمائی سے بقدر ضرورت مال حاصل کرلے چاہے اس کے والد کی کمائی حرام ہی کیوں نہ ہو ۔

تواس صورت میں اولاد کی دعا پروالد کا یہ حرام مال اثرانداز نہیں ہوگا اس لیے کہ اس کی پاس قدرت و استطاعت ہی نہیں ہے لیکن اولاد کے ذمہ ہے کہ وہ اس حالت مندرجہ ذیل اشیاء کا خیال رکھیں :

1 - اپنے والد کی حرام کمائی کوزيادہ مقدار میں حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ۔

2 - اگروہ استطاعت رکھیں توانہیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ حلال کمائيں اوراس میں وہ اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہوۓ والد کے خرچہ سے دستبردار ہوتے ہوۓ ترک کردیں ۔

3 - اسے یہ کوشش کرنی چاہيۓ کہ وہ اپنے والد کونصیحت کرے اوراسے حرام کمائی ترک کرنے کی نصیحت کریں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ہاتھ پراس کے والد کو اس حرام کمائی سے باز رہنے کی توفیق عطا فرماۓ اوروہ اس سے توبہ کرلے ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں