سوموار 22 صفر 1441 - 21 اکتوبر 2019
اردو

عورت کا حجراسود کا بوسہ لینا

21644

تاریخ اشاعت : 08-12-2007

مشاہدات : 5025

سوال

کیا عورت کےلیے حجراسود کا بوسہ لیتے ہوئے اپنا چہرہ ننگا کرنا جائزہے حالانکہ اس کے قریب مرد بھی ہوتے ہیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ

طواف کی سنتوں میں حجراسود کا بوسہ لینا بھی ایک سنت مؤکدہ ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بوسہ لینے میں آسانی ہواوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئےآپ کے فعل سے کسی دوسرے کوکوئي تکلیف نہ پہنچے اوربغیر دھکم پیل کیے بوسہ لیا جائے ، لیکن اگربغیر کسی کوتکلیف دیے اوردھکم پیل کیے بوسہ لینا آسان نہ ہو تواسے ترک کرکےہاتھ کے ساتھ اشارہ کرنے پرہی اکتفاء کرلینا چاہیے ۔

اورخاص کرعورت کےلیے توایسا کرنا اوربھی مشکل ہے کیونکہ عورت کومکمل سترہے اسے باپردہ رہنا چاہیے ، اوراس لیے بھی کہ مردوں کے حق میں بھی دھکم پیل کرنی مشروع نہيں توپھرعورتوں کے حق میں تویہ زيادہ اولی اوربہتر ہے کہ وہ ایسا نہ کریں ۔

اوراسی طرح عورت کےلیے یہ بھی جائزنہيں کہ اگراس کے لیے بغیر دھکم پیل کیے بوسہ لینا آسان بھی ہوتوغیرمحرم لوگوں کی موجودگی میں اس جگہ وہ اپنا چہرہ ننگا کرے ۔ .

ماخذ: دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 11 / 229 ) ۔

تاثرات بھیجیں