بدھ 11 جمادی اولی 1440 - 16 جنوری 2019
اردو

حائضہ اورنفاس والی عورت طواف کب کریں

سوال

جب عورت کویوم الترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کےدن نفاس شروع ہوا ہواوراس نے طواف اورسعی کے علاوہ باقی سارے اعمال حج مکمل کرلیے لیکن اس نےابتدائي طورپریہ دیکھا کہ دس یوم کے بعد پاک صاف ہوگئي ہے توکیا وہ غسل کےباقی ارکان حج ادا کرے گی ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :

عورت کےلیے طہرکے یقین ہونے کے بغیر غسل کرکے طواف کرنا جائز نہیں ۔

سوال میں اس کا یہ کہنا کہ ( ابتدائی طورپر ) تواس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ اس نے مکمل طہرنہیں دیکھا اس لیے ضروری ہے کہ مکمل طہر کا یقین کرلیا جائے ، لھذا جب بھی وہ طہردیکھے توغسل کرکے طواف اورسعی کرلے ، اوراگرطواف سے قبل ہی سعی کرلے تواس میں کوئي حرج نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب طواف سے قبل سعی کرنے والے شخص کے بارہ میں پوچھا گیا تورسول کریم صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :

کوئي حرج نہیں ۔ اھـ  .

ماخذ: رسالۃ 60سوالا فی الحيض سے لیا گيا ۔

تاثرات بھیجیں