بدھ 11 جمادی اولی 1440 - 16 جنوری 2019
اردو

كسى نے ہوا خارج ہونے كى خبر دى

21659

تاریخ اشاعت : 23-01-2007

مشاہدات : 4313

سوال

اگر كسى معتبر اور ثقہ شخص كو كوئى بتائے كہ آپ كى ہوا خارج ہوئى ہے، تو كيا اس كى بات تسليم كى جائيگى يا نہيں ـ جيسا كہ بعض يمنيوں نے اس كا فتوى بھى ديا ہے ـ ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ابن حجر ہيتمى رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ بالا سوال دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" صحيح يہى ہے كہ اس كے ليے قبول كرنى لازم ہے، اور يہ خيال كہ اس كى خبر يقين كا فائدہ نہيں دے گى، بلكہ ظن كا فائدہ دےگى، اور يقينى طہر ظن حدث كے ساتھ باطل نہيں ہوتا.

اس زعم اور نظريہ كو يہ چيز باطل كرتى ہے كہ: اگر وہ اسے خبر دے كہ پانى ميں نجاست گرى ہوئى تھى، تو مذكورہ علت كے باوجو اس كى خبر قبول كرنى لازم ہے.

اس كى توجيہ يہ ہے كہ: اگرچہ يہ ظن ہے، ليكن بہت سے ابواب ميں شرعى يقين كے قائم مقام ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى ہى زيادہ علم ركھنے والا ہے.

ماخذ: ديكھيں: الفتاوى المھمۃ الكبرى ( 1 / 36 )

تاثرات بھیجیں