سوموار 25 ذو الحجہ 1440 - 26 اگست 2019
اردو

گول کرنے کے بعد کھلاڑی کے سجدہ شکر کرنے کا کیا حکم ہے؟

217766

تاریخ اشاعت : 07-08-2015

مشاہدات : 1982

سوال

سوال: ہم بہت سے مسلمان کھلاڑیوں کو مغربی ممالک میں گول کرنے کے بعد خوش ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، اور اس کیلئے سجدہ شکر بجا لاتے ہیں، تو کیا مغربی ممالک میں گول کی خوشی پر سجدہ شکر کرنا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

کھیل کےیہ  مقابلے اوران کی موجودہ صورتِ حال لہو  ولعب میں  شامل ہے، اکثر طور پر  ان مقابلوں میں محرمات کا ارتکاب ہوتا ہے،اور  یہی حال کھیلوں کی ہر قسم کی ٹیم کا  ہے۔

اس بنا پر :
گول کرنا، ایسی نعمتوں میں سے نہیں ہے جن کا شرعی طور پر اعتبار کرتے ہوئے سجدہ شکر بجا لایا جائے، چنانچہ عبادات کے امور کو اس قسم کی صورت حال اور حالات سے دور ہی رکھنا چاہیے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں بھی مقابلے ہوتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ان میں فتح یاب بھی ہوتے تھے، لیکن اس کے باوجود کسی بھی صحابی سے  مقابلوں کے بارے میں سجدہ شکر  منقول نہیں ہے، حالانکہ انکے مقابلے آج کل کے مقابلوں سے کہیں  پاک صاف ہوتے تھے۔

شیخ صالح بن فوزان الفوزان سے کھلاڑیوں کے سجدہ شکر کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا: "سجدہ شکر  حصول نعمت، یا زوالِ نقمت پر کیا جاتا ہے، جبکہ فٹ بال کھیلنے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مباح [جائز]ہے،  یہ کوئی نعمت نہیں ہے، اس لئے فٹ بال کھیلنے کیلئے سجدہ شکر جائز نہیں ہے" انتہی
واللہ اعلم.

ماخذ: الشيخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں