جمعرات 8 ربیع الثانی 1441 - 5 دسمبر 2019
اردو

قرآن کریم کی سجدہ والی آیات کا ترجمہ پڑھنے پر سجدہ تلاوت کیا جائے گا؟

218512

تاریخ اشاعت : 07-06-2015

مشاہدات : 4385

سوال

سوال: اگر میں قرآن مجید کا انگلش میں ترجمہ پڑھ رہا ہوں، اور جب سجدہ والی آیت کا ترجمہ پڑھوں تو کیا مجھ پر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:
اہل علم رحمہم اللہ کے صحیح ترین اقوال کے مطابق : سجدہ تلاوت سنت ہے، واجب نہیں ہے، جمہور کا یہی موقف ہے۔

نووی رحمہ اللہ سجدہ تلاوت کا حکم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"ہمارا مذہب یہ ہے کہ سجدہ تلاوت سنت ہے، واجب نہیں ہے، اور اسی کے جمہور علمائے کرام قائل ہیں"انتہی
" المجموع " (3/557)

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ جمہور کے قول کی تائید میں استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو سورہ نجم سنائی، اور ہم میں سے کسی نے بھی سجدہ تلاوت نہیں کیا"متفق علیہ، اور صحابہ کرام کا اسی پر اجماع ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ : "عمر رضی اللہ عنہ نے  جمعہ کے دن منبر پر سورہ نحل تلاوت کی، اور جب سجدہ کی آیت آئی تو منبر سے اتر کر سجدہ تلاوت کیا، اور لوگوں نے بھی سجدہ تلاوت کیا، پھر جب آئندہ جمعہ  آیا تو پھر سورت کی تلاوت کی لیکن اس بار عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا" حدیث کے ایک لفظ یہ بھی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے ہم پر سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا، اگر ہم چاہیں [تو سجدہ تلاوت کر سکتے ہیں] تو پھر آپ نے سورت کی تلاوت کی، اور سجدہ نہیں کیا، سامعین کو بھی سجدہ کرنے سے منع کر دیا" یہ عمل عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بہت بڑے مجمعے کے سامنے  تھا، اور کسی نے بھی عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کی تردید نہیں کی، اور نہ اس قول  کی مخالفت کسی سے منقول ہے"انتہی
" المغنی " (1/362)

دوم:
عربی سے کسی دوسری زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کو "قرآن"  شمار نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے قرآن مجید کی تفسیر کہا جاسکتا ہے؛ چنانچہ قرآن  وہ ہے جو عربی زبان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل ہوا ، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ )
ترجمہ: بیشک ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے، امید ہے تم سمجھ جاؤ۔[يوسف:2]
اس لئے عربی زبان سے کسی اور زبان میں  قرآن مجید کا ترجمہ اگر کر دیا جائے تو  اسے قرآن مجید کی  تفسیر کہا جائے گا۔

شیخ منصور بہوتی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"قرآن مجید کا دیگر زبانوں میں ترجمہ قرآن نہیں کہلائے گا، چنانچہ جنبی شخص  پر ترجمہ و تفسیر کو چھونا  حرام نہیں ہوگا، یہ قرآن مجید کے معانی  کی ترجمانی اور تفسیر ہوتی ہے، اس لئے وہ قرآن  نہیں ہوگا اور نہ ہی قرآنی اعجاز کا حامل ہوگا" انتہی

" كشاف القناع " (1/341)

چنانچہ  عربی کے علاوہ دیگر زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے پر سجدہ تلاوت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس حالت میں قرآن نہیں بلکہ قرآن  مجید کے معانی کا ترجمہ پڑھا جاتا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں