جمعہ 17 ذو القعدہ 1440 - 19 جولائی 2019
اردو

عورتوں کا جھوٹے عذر پیش کرکے نماز ترک کرنا

22021

تاریخ اشاعت : 28-05-2003

مشاہدات : 3115

سوال

بعض سکولوں میں طالبات پرنماز باجماعت کا اہتمام کرنا ضروری ہے اوروہ حیض والی لڑکیوں کوایک خاص جگہ بیٹھنے کی اجازت دیتے ہیں ، تواس طرح کچھ لڑکیاں اللہ تعالی انہیں ھدایت دے اپنی نگران کے سامنے جھوٹ بولتی ہیں کہ انہیں ماہواری آئ ہوئ ہے اوروہ اتنے دن نمازنہيں پڑھتیں ، اورجب ماہواری آتی ہے تو ذلت سے بچنے کےلیۓ سب کے ساتھ نماز میں کھڑی ہوجاتی ہیں ، توایسی لڑکیوں کے اس جھوٹ کا کیا حکم ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
ان کا ایسا کرنا جائز نہیں اس لیے کہ اس میں کئ ایک جرم ہيں :

اول : اس دعوی میں صریح اورواضح جھوٹ بول کرعذر پیش کرنا ۔

دوم : نماز کا مکمل ترک کرنا یا پھر اس کے وقت میں تاخیر کرنا ، اوریا پھر عورتوں کی جماعت کوترک کرنا ۔

سوم : بعد میں حقیقی ماہواری کی حالت کے اندر نماز کی ادائيگی ۔

توآپ انہيں وعظ ونصیحت کریں اوران کے سامنے جھوٹ کاگناہ اورنماز میں وقت سے تاخیرکی سزا بیان کریں اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

جولوگ اپنی نماز میں کوتاہی کرتے ہیں الماعون ( 5 ) ۔

اورجولڑکی بھی نماز میں تاخیر کرے یا پھر ماہواری کی حالت میں نماز پڑھے تواسے ‎سزا ضروردی جاۓ تا کہ اسلام کے ناپسندیدہ کام رک جائيں ۔

واللہ تعالی اعلم ۔ .

ماخذ: یہ جواب شیخ عبداللہ بن جبرین نے نے فتاوی شرعیہ کے سلسلہ میں لکھوایا دیکھیں : الفتاوی الشرعیۃ ( 1 / 99 ) ۔

تاثرات بھیجیں