منگل 15 جمادی ثانیہ 1443 - 18 جنوری 2022
اردو

ایسی ادویات اور گولیاں استعمال کرنے کا کیا حکم ہے جو جڑواں بچوں کو جنم دینے کیلئے مدد گار ثابت ہوتی ہیں؟

222537

تاریخ اشاعت : 08-12-2014

مشاہدات : 2901

سوال

سوال: کیا ایسی ادویات استعمال کرنا جائز ہے جو کہ خواتین کے رحم میں جڑواں بچوں کا باعث بنے؟ میرے دو بچے ہیں، بیٹا اور بیٹی، اور اب میری خواہش ہے کہ میرے دو بچے اور ہوں وہ بھی جڑواں۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

شریعت  افزائش نسل کیلئے خوب ترغیب دلاتی ہے، چنانچہ ابو داود (2050)، اور نسائی: (3227) میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی خواتین سے شادی کرو، بیشک میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر  اقوام پر فخر کروں گا)  حدیث کے الفاظ ابو داود کے ہیں، اور اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔

چنانچہ اس حدیث میں ایسی خواتین کیساتھ شادی کی ترغیب دی گئی ہے جو کہ زیادہ اولاد جننے والی ہوں، اسکی بابت کنواری لڑکیوں میں اسکی ماں، بہنو دیگر رشتہ دار خواتین کو دیکھ کر  معلوم کیا جاسکتا ہے۔
نسل زیادہ ہونے کے فوائد جاننے کیلئے سوال نمبر : (13492) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اسی طرح شریعت نے ایسی چیزوں سے بھی منع  فرمایا ہے جس سے فرد کو  نقصان پہنچے، چنانچہ ابن ماجہ: (2341) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما  کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (نہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاؤ، اور نہ ہی کسی دوسرے کو نقصان پہنچاؤ) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح سنن ابن ماجہ " میں صحیح قرار دیا ہے۔

لہذا مذکورہ بالا وضاحت کے بعد، اگر ان ادویات اور گولیوں کا خواتین پر فوری یا بعد میں بھی کسی قسم کا نقصان نہیں ہے، اور حمل پر بھی اسکے مضر اثرات نہ ہوں، ایسے ہی انہیں اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جائے تو ان شاء اللہ انہیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس میں افزائش نسل ہے، جس کے بارے میں شریعت ترغیب دلاتی ہے۔

فائدے کیلئے آپ سوال نمبر: (170793) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب