سوموار 17 شعبان 1440 - 22 اپریل 2019
اردو

عورت گھر میں تراویح کیسے ادا کرے گی؟

سوال

سوال: گھر میں نماز تراویح ادا کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ کیا گھر میں نماز تراویح ادا کرنے کیلیے عورت کا حافظہِ قرآن ہونا ضروری ہے، یا جتنا بھی اسے قرآن یاد ہے اسے تراویح میں پڑھ سکتی ہے؟

جواب کا متن

الحمد اللہ:

اول:

نماز فرض ہو یا نفل عورت کا گھر میں نماز ادا کرنا مسجد میں نماز ادا کرنے سے افضل ہے، اور اسی حکم میں تراویح کی نماز بھی شامل ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"عورت کی گھر میں نماز مسجد میں نماز ادا کرنے سے  بہتر ہے، فرض ہو یا نفل یا تراویح کوئی بھی  نماز ہو" انتہی
" فتاوى اللجنة الدائمة" – پہلا ایڈیشن" (7/201)

دوم:

عورت کو جتنا قرآن مجید یاد ہو اتنا ہی پڑھ کر تراویح اپنے گھر میں ادا کرے اور اس کیلیے سنت طریقے  کا اہتمام حسب استطاعت کرے، چنانچہ اگر مکمل قرآن مجید یاد ہے اور وہ نماز لمبی بھی کر سکتی ہے تو پھر وہ گیارہ  یا تیرہ رکعات نماز ادا کرے  ، ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور آخر میں وتر پڑھے۔

اور اگر قیام لمبا  نہ کر سکتی ہو تو حسب توفیق  رکعات  پڑھے اور جب یہ سمجھے کہ مجھ میں اتنی ہی استطاعت ہے  تو پھر ایک رکعت وتر ادا کر لے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"تراویح کی نماز گیارہ یا تیرہ رکعت ہے، اس کیلیے  سنتِ نبوی یہ ہے کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور آخر میں ایک وتر ادا کر لے، اگر کوئی 20 یا اس سے بھی زیادہ ادا کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (رات کی نماز دو ، دو رکعت ہے، چنانچہ جب تمہیں طلوعِ فجر ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اس سے گزشتہ ساری نماز کی تعداد وتر ہو جائے گی) متفق علیہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز کیلیے رکعات مقرر نہیں فرمائیں" انتہی
" فتاوى اللجنة الدائمة" – پہلا ایڈیشن" (7/198)

سوم:

عورت کیلیے گھر میں تراویح پڑھنے کیلیے حافظہ قرآن ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ عورت چاہے مکمل قرآن کی حافظ ہو یا مناسب مقدار میں قرآن مجید کے پارے یاد ہوں  وہ گھر میں تراویح کی نماز ادا کر سکتی ہے۔

اور اگر کوئی شخص مرد ہو یا عورت اسے گھر میں نماز پڑھنے کیلیے قوت حافظہ  ساتھ نہیں دیتی  تو وہ قرآن مجید سے دیکھ کر بھی پڑھ سکتا ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر امام ہونے کی صورت میں ضرورت محسوس ہو تو قرآن مجید سے دیکھ کر بھی پڑھ سکتا ہے، اسی طرح عورت بھی دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کر سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے" انتہی
" فتاوى نور على الدرب " (8/246)

اگر گھر میں خواتین کی کافی تعداد ہو تو ان کے ساتھ باجماعت تراویح ادا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، امامت کروانے والی خاتون  عورتوں کے درمیان میں کھڑی ہو کر قرآن کی تلاوت کرے گی، اور اگر قرآن مجید سے دیکھ کر تلاوت کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بہتر تو یہی ہے کہ عورت اپنے گھر میں ہی نماز پڑھے، چاہے نمازِ تراویح کیلیے  قریب مسجد میں انتظام بھی ہو، چنانچہ اگر عورت گھر میں با جماعت نماز تراویح ادا کر لیتی ہے تو  اس میں  بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس صورت میں اگر عورت کو قرآن مجید کا تھوڑا حصہ ہی یاد ہو تو اسے قرآن مجید سے دیکھ کر تلاوت کرنے کی اجازت ہے۔" انتہی
" فتاوى نور على الدرب "  از ابن عثیمین ۔

چہارم:

مسجد میں مردوں کی جماعت کے ساتھ عورت  کیلیے تراویح یا دیگر نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج ہے، بلکہ اگر لمبے قیام والی نمازوں میں عورت کا مسجد میں نماز با جماعت ادا کرنا  زیادہ جوش اور جذبے کا باعث ہو تو یہ اچھا عمل ہے، اگرچہ عورت کا گھر میں نماز ادا کرنا چاہے نماز فرض ہو یا نفل  مسجد میں نماز ادا کرنے سے اصولی طور پر بہترین عمل ہے۔

چنانچہ اس بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"عورت کیلیے مسجد میں نماز تراویح کی ادائیگی  کا کیا حکم ہے؟"

انہوں نے جواب دیا:
"اصولی طور پر عورت کی گھر میں نماز  افضل اور بہتر ہے، لیکن مسجد میں باپردہ حالت میں با جماعت نماز ادا کرنے سے زیادہ فائدہ ہوگا  کہ اس سے دل میں نمازیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے یا اسے علمی دروس سننے کا موقع ملتا ہے تو -الحمد اللہ-اس میں کوئی حرج نہیں ہے،اور وہ اس اعتبار سے بھی بہتر ہے کہ اس میں عظیم فوائد ہیں اور نیکی کی ترغیب پیدا ہوتی ہے" انتہی
ماخوذ از ویب سائٹ:

http://www.binbaz.org.sa/mat/15477

اسی طرح ان سے یہ بھی پوچھا گیا:
"عورت کیلیے مسجد میں نماز تراویح پڑھنا  جائز ہے؟"

تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر عورت کو گھر میں تراویح پڑھنے پر سستی کا خدشہ ہو تو اس کیلیے مسجد میں نماز ادا کرنا مستحب ہے، اگر سستی کا خدشہ نہ ہو تو پھر گھر میں افضل ہے، تاہم اگر پھر بھی مسجد میں نماز  ادا کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانچوں نمازیں با جماعت ادا کیا کرتی تھیں، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہا کرتے تھے: (خواتین کیلیے ان کے گھر بہتر ہیں)۔

لیکن کچھ خواتین اپنے گھر میں سستی کا شکار ہو جاتی ہیں، کاہلی میں پڑ جاتی ہیں، تو اگر وہ مسجد میں با پردہ ہو کر بے پردگی سے بچتے ہوئے  نماز پڑھنے اور اہل علم کی دینی گفتگو سننے کیلیے جائیں تو انہیں اس کا اجر بھی ملے گا؛ کیونکہ ان کا مقصد اچھا ہے" انتہی
" فتاوى نور على الدرب " (9/489)

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عورت کی گھر میں نمازِ تراویح بہتر اور افضل ہے، لیکن اگر عورت کی مسجد میں نماز زیادہ خشوع و خضوع اور جسمانی چستی کا باعث ہو ، اور اسے خدشہ ہو کہ اگر وہ گھر میں نماز ادا کرے گی تو اس کی نماز ضائع ہو جائے گی تو پھر ایسی صورت میں مسجد  میں جانا افضل ہو گا" انتہی
ماخوذ از: " اللقاء الشهري "

مزید فائدے کیلیے آپ سوال نمبر: (3457) اور (65562) کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں