جمعرات 17 شوال 1440 - 20 جون 2019
اردو

کیا مصحف میں علامات وقف کی پابندی کرنا واجب ہے؟

223904

تاریخ اشاعت : 04-03-2015

مشاہدات : 3341

سوال

سوال: کافی عرصہ پہلے آپکی ویب سائٹ پر فتوی پڑھا تھا ، جس میں آپ نے یہ قول نقل کیا تھا کہ عوام کیلئے مناسب یہی ہے کہ وہ قرآن مجید میں موجود علامات وقف پر ہی ٹھہریں، اب میرا یہ سوال ہے کہ : بسا اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت زبانی کر رہا ہوتا ہوں، اور مجھے قرآن مجید کی علامات وقف یاد نہیں ہیں تو پھر میں کیا کروں؟ اور کیا عوام الناس کیلئے قرآن مجید میں موجود علامات وقف سے ہٹ کر دیگر جگہوں پر ٹھہرنا حرام ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

بلاشبہ آیات کے وقف اور ابتدا  کا علم بہت ہی شاندار علم ہے؛ کیونکہ  اس سے تدبّر قرآن میں  مدد ملتی ہے، جو کہ تلاوت کرنے والے ہر شخص سے مقصود ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ )
ترجمہ: یہ کتاب ہم نے آپکی طرف نازل کی ہے بہت بابرکت ہے، تا کہ اس کی آیات پر تدبّر کریں، اور عقلمند  اس سے نصیحت حاصل کریں۔[ص:29]

مزید کیلئے سوال نمبر: (159072) کا جواب ملاحظہ کریں

علم وقف و ابتدا کیلئے متعدد علوم کی ضرورت پڑتی ہے، چنانچہ عظیم قاری ابن مجاہد کہتے ہیں:
"مقامات وقف کے بارے میں کامل علم  صرف وہی  رکھتا ہے جو نحوی، ماہر قراءات، عالم تفسیر و قصص، اور قصوں کو ایک دوسرے سےجدا  دیکھنے  کی صلاحیت رکھے، اور جس زبان میں قرآن نازل کیا گیا ہے، اس زبان کو بھی جانتا ہو" انتہی
" الإتقان في علوم القرآن " (1/296)

 قرآن کریم میں علم  وقف کی  بنیاد آیات کا معنی سمجھنے پر ہے، اور معانی میں اختلاف کی بنا پر  قرّائے کرام بھی کچھ جگہوں پر وقف کرنے کے متعلق مختلف آراء رکھتے ہیں، کیونکہ ہر ایک  مخصوص معنی کے اعتبار سے وقف کرتا ہے۔

اس لئے ہم نے پہلے اس بات کا ذکر کیا  ہے کہ : عامی شخص جو پڑھی جانے والی آیات کی تفسیر نہیں جانتا اس کیلئے افضل یہی ہے کہ قرآن مجید میں موجود علامت وقف  پر پابندی کرے۔

دوم:
وقف کی جگہوں کا اہتمام کرنا واجب  نہیں ہے، اور نہ ہی وقف کی ان جگہوں کی مخالفت کرنا حرام ہے، تاہم جن جگہوں پر وقف کرنے سے بالکل فاسد معنی لازم آتا ہے تو ایسی جگہوں پر قصداً وقف کرناحرام ہے   اور کسی مؤمن سے اسکا واقع   ہونا  محال ہے۔

شیخ المقری عبدالفتاح مرصفی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمارے ائمہ کرام نے جو کہا ہے کہ فلاں فلاں کلمہ پر وقف کرنا جائز نہیں ہے، اس سے انکی مراد اختیاری وقف ہوتی ہے، جس  کے ذریعے تلاوت میں حسن اور رونق پیدا ہو، ان کی اس سے مراد حرام، مکروہ نہیں ہوتی؛ کیونکہ قرآن مجید میں ایسا کوئی وقف نہیں ہے جس کو ترک کرنے پر گناہ ملے، یا کوئی حرام وقف  نہیں ہے کہ جہاں وقف کرنے پر گناہ ملے،  کیونکہ وصل اور وقف اس طور پر معنی پر دلالت نہیں کرتے کہ وقف یا وصل نہ کرنے کی وجہ سے معنی بالکل ختم ہو جائے، تاہم جب کوئی حرمت کا سبب پایا جائےتو  ایسی صورت میں وقف کرنا حرام ہو سکتا ہے ، مثلاً: قاری  بغیر کسی ضرورت کے ( وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ) المائدة / 73 آیت میں لفظ "الہ" پر وقف کرے، یا  ( والله لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الحق ) الأحزاب / 53 میں لفظ "لا" پر وقف کرے، یا  پھر ( والله لاَ يَهْدِي القوم الفاسقين ) الصف / 5 میں لفظ : "لا" پر وقف کرے، اس کے علاوہ اور بھی کئی وقف قبیح ہیں  جو کہ کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں کر سکتا جس کا دل ایمان پر مطمئن ہو"

اسی کے بارے میں حافظ ابن جزری رحمہ اللہ مقدمہ جزریہ میں کہتے ہیں:
" وليسَ في القرآن مِنْ وقْفٍ وجَب ... ولا حرام غير ما له سَبَبْ "
"ترجمہ: اور قرآن میں کوئی واجب وقف نہیں ہے، اور غیر سببی حرام وقف بھی کوئی نہیں ہے"
" هداية القاري إلى تجويد كلام الباري " از مرصفی: (1/387)

چنانچہ اس بنا پر آپ کیلئے زبانی قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے، آپ اپنے حافظے سے تلاوت کریں، چاہے آپکو وقف کی جگہوں کا علم نہ ہو، پھر آپ ایسی جگہ وقف کر سکتے ہیں جہاں وقف کرنے سے معنی تبدیل  یا غلط  معنی نہ ہو۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں