اتوار 18 رجب 1440 - 24 مارچ 2019
اردو

فوتگى كے اعلان كى مباح اور منع كردہ صورتيں

22502

تاریخ اشاعت : 08-06-2010

مشاہدات : 4391

سوال

كسى شخص كے رشتہ داروں اور دوست و احباب كو اس كى فوتگى كى اطلاع دينا تا كہ نماز جنازہ كے ليے جمع ہو جائيں.... كيا يہ منع كردہ فوتگى كى اطلاع ميں شامل ہوتا ہے يا مباح اور جائز ميں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

يہ فوتگى كى مباح اطلاع ميں شامل ہوتا ہے، اور اسى ليے نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے نجاشى كى موت كى اطلاع اسى دن دى تھى جس دن وہ فوت ہوا اور مسجد كى صفائى كرنے والى عورت كے فوت ہونے پر صحابہ كرام نے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو بتائے بغير دفنا ديا تو نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم نے مجھے خبر كيوں نہ كى.... "

يعنى تم نے مجھےكيوں نہ بتايا، تو كسى شخص كے جنازے ميں زيادہ لوگوں كو شركت كا موقع دينے كے ليے موت كى اطلاع دينے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ اس طرح كا واقعہ سنت سے ثابت ہے، ليكن اس كے دفن كرنے كے بعد اعلان كرنا مشروع نہيں، بلكہ يہ ممنوعہ اعلان ميں شامل ہوتا ہے.

ماخذ: ديكھيں: 70 سوالافى احكام الجنائز صفحہ نمبر ( 4 ) فضيلۃ الشيخ محمد صالح العثيمين

تاثرات بھیجیں