منگل 20 رجب 1440 - 26 مارچ 2019
اردو

رمضان میں کسی اجنبی لڑکی کا بوسہ لینے والے کا حکم

سوال

رمضان المبارک میں کسی اجنبی لڑکی کا بوسہ لینے کا حکم کیا ہے ، آیا اس پر روزے کی قضا کرنی واجب ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
جس ش‍خص نے اجنبی عورت کا رمضان المبارک میں بوسہ لیا اس نے بلاشک روزے کی حکمت پوری نہيں کی کیونکہ اس شخص نے ایک غلط کام کیا ہے ، اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جوکوئی بھی غلط باتیں اوراس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا اورجہالت سے باز نہيں آتا تواللہ تعالی کو اس کی کوئي ضرورت نہيں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے ) ۔

تواگراس نے لڑکی کواس پرمجبور کیا تویہ اس کے حق میں فعل زور اورغلط کام اورجہالت ہے ، اس لیے حقیقتا اس کا روزہ اپنی حکمت کھوبیٹھا ہے اورناقص الاجر ہے ، لیکن جمہور علماء کرام کے ہاں اس کا روزہ فاسد نہيں ہوا ، اس کا معنی یہ ہوا کہ ہم اس پر اس روزہ کی قضاء لازم نہيں کرتے ۔ .

ماخذ: دیکھیں فتاوی الشيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی ( 1 / 516 ) ۔

تاثرات بھیجیں