جمعرات 10 ربیع الثانی 1442 - 26 نومبر 2020
اردو

كيا شہر سے نكلنے سے قبل نماز قصر ہو سكتى ہے ؟

2295

تاریخ اشاعت : 03-03-2008

مشاہدات : 5257

سوال

ايك شخص اپنے گھر سے سفر كے ليے نكلا اور آبادى ختم ہونے سے يا علاقے سے نكلنے سے قبل ہى نماز عصر كا وقت ہو گيا تو كيا وہ نماز قصر كرے يا پورى ادا كرے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

جب مسافر اپنے شہر ميں ہى ہو اور نماز كا وقت ہو جائے اور وہ اپنے شہر ميں ہى نماز ادا كرے تو وہ قصر نہيں كرے گا كيونكہ ابھى وہ شھر سے نكلا نہيں، اور اگر وہ شہر سے نكل جائے اور راستے ميں نماز ادا كرے تو قصر كرتے ہوئے دو ركعت ادا كرے گا، چاہے اس كے شھر ميں ہوتے ہوئے اذان بھى ہو چكى ہو، يعنى معتبر تو نماز ادا كرنا ہے.

جيسا كہ اگر آپ سفر ميں ہوں اور نماز كا وقت ہو جائے اور نماز ادا كرنے سے قبل آپ شھر ميں پہنچ جائيں، تو آپ نماز پورى يعنى چار ركعت ادا كرينگے.

تو قاعدہ اور اصول يہ ہوا كہ: نماز كى ادائيگى كا اعتبار ہے، اگر آپ سفر ميں ادا كريں تو قصر كرليں، اور اگر حضر ميں ادا كريں تو پورى پڑھيں.

ماخذ: ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ( 148 )