منگل 24 ذو الحجہ 1442 - 3 اگست 2021
اردو

کسی کو موبائل بیلنس ٹرانسفر کرنے پر فیس وصول کرنے کا کیا حکم ہے؟

سوال

ایک شخص 5 ڈالر بیلنس کسی کو بطور قرض اس شرط پر ٹرانسفر کرتا ہے وہ واپس بیلنس ٹرانسفر کرتے ہوئے 1 ڈالر اضافی بطور فیس  ارسال کرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

ہم پہلے سوال نمبر: (220237) میں ذکر کر آئے ہیں کہ موبائل میں موجود بیلنس کمپنی سے خریدی گئی موبائل استعمال کرنے کی سہولت  ہوتی ہے۔

اس بنا پر موبائل میں موجود بیلنس کسی دوسرے کو ٹرانسفر کریں تو اس کی دو صورتیں بنتی ہیں:

پہلی صورت:

بیلنس ٹرانسفر کرنے کا یہ عمل بطور خرید و فروخت ہو، تو ایسی صورت میں موبائل آپریٹنگ کمپنی سے خریدی گئی سہولت کو آگے کسی اور کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے اس کے لیے صرف اصل قیمت وصول کرے یا کم یا زیادہ لے؛ کیونکہ یہ اس وقت سہولت فروخت کرنے زمرے میں آئے گا، نقدی رقوم کی نقدی کے ساتھ بیع کے ضمن میں نہیں آئے گا کہ اس میں برابری کی شرط رکھی جائے۔

دائمی فتوی کمیٹی سے پری پیڈ موبائل ریچارج کارڈ اصل قیمت سے زیادہ کے عوض فروخت کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ:
"اس قسم کے موبائل کارڈ فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ جائز سہولت فروخت کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔" ختم شد
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (103185) اور (132581) کا جواب ملاحظہ کریں۔ 

دوم:

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ٹرانسفر بطور قرض کریں، تو اس صورت میں اس کا جواز محل نظر ہے؛ کیونکہ علمائے کرام کا قرض المنافع یعنی سہولیات  قرض دینے  کے حکم میں اختلاف ہے، تاہم اس مسئلے میں قرین انصاف موقف یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"منافع یعنی سہولیات بطور قرض دینا جائز ہے، مثلاً: ایک دن ایک آدمی دوسرے کے ساتھ فصل کٹوائے اور دوسرے دن پہلا آدمی دوسرے کی فصل  کٹوائے، یا پھر ایک آدمی کسی کے گھر میں رہے اور اس کے بدلے میں دوسرا آدمی اس پہلے آدمی کے گھر میں  رہے" ختم شد
"الفتاوى الكبرى" (5/394)

اس صورت میں بیلنس دینے والا شخص بیلنس لینے والے پر یہ شرط عائد نہیں کر سکتا کہ بیلنس واپس کرتے ہوئے اضافی بیلنس بھی ارسال کرے، چنانچہ مقروض شخص  اتنا ہی بیلنس ٹرانسفر کرے گا جتنا اس نے قرض خواہ سے لیا تھا؛ کیونکہ ہر نفع لانے والا قرض  سود ہوتا ہے۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (436/6) میں کہتے ہیں:  
"جس قرض میں بھی قرض خواہ شرط لگائے کہ وہ اضافہ بھی لے گا تو وہ بغیر کسی اختلاف کے حرام ہے۔" ختم شد

تاہم آپ کے لیے یہ جائز ہے کہ باہمی اتفاق کر لیں کہ ادائیگی کے وقت بیلنس کی قیمت نقدی کی صورت میں ادا  ہو، اس طرح یہ ایسے ہو جائے گا جیسے قرض کو اس کی جنس تبدیل کر کے دیا جائے، اس صورت میں یہ شرط لازمی لگائی جاتی ہے کہ جس دن ادائیگی کی جائے نقدی قیمت اس دن کی بیلنس کی قیمت کے مطابق ہو۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (99642) کا جواب ملاحظہ کریں۔  

یہ دونوں صورتیں یعنی فروخت اور قرض والی   شکل و صورت میں یکساں ہیں، لیکن یہاں پر فرق فریقین کی نیت سے واضح ہو گا کہ انہوں نے لین دین کے وقت کیا نیت کی تھی؟

خلاصہ:
بیلنس کو زیادہ قیمت کے عوض فروخت کرنا جائز ہے، لیکن جب بیلنس قرض ہو گا تو بیلنس کے برابر ہی بیلنس واپس کرنا ضروری ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب