سوموار 13 جمادی ثانیہ 1440 - 18 فروری 2019
اردو

خاوند کی وفات پر سوگ اور چاروں فقہی مذاہب کے مطابق لازمی امور

230456

تاریخ اشاعت : 26-02-2018

مشاہدات : 1260

سوال

میرے خاوند کچھ عرصہ پہلے فوت ہوئے ہیں اور میں اب عدت کے مرحلے میں ہوں، میں اس مرحلے کے تقاضوں کو پورا کر رہی ہوں۔ کچھ دن پہلے میری اپنی سہیلی کی والدہ سے بات ہوئی تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ ہمارے ہاں ترکی میں عدت والی خاتون کے معاملات قدرے مختلف ہیں، وہ اس طرح کہ اس عرصے کے دوران خاتون کو صرف شادی کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس کے علاوہ خوشبو کا استعمال، بناؤ سنگھار، اور ضرورت کی بنا پر گھر سے باہر جانا وغیرہ تو اس میں وہ کوئی حرج محسوس نہیں کرتیں ، ان کے مطابق یہ فقہ حنفی کے مطابق ہے اور ترکی کے لوگ اسی مذہب کے پیروکار ہیں۔ تو کیا ان کی یہ بات صحیح ہے۔ اور کیا چاروں فقہی مذاہب میں بیوہ عورت کے سوگ سے متعلق کوئی اختلاف پایا جاتا ہے؟ میں اس کی تفصیلات جاننا چاہتی ہوں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ میں چاہتی ہوں اس خاتون کو بھی سمجھا سکوں۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

آپ کو اس خاتون کی طرف سے جو بتلایا گیا ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق  بیوہ خاتون دوران سوگ صرف شادی نہیں کر سکتی اس کے علاوہ بناؤ سنگھار اور زیب  و زینت اختیار کرنا جائز ہے ۔ تو ان کی یہ بات صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ حنفی فقہائے کرام نے بڑی صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ بیوہ عورت دوران عدت بناؤ سنگھار سے بھی اجتناب کرے گی۔

چنانچہ سمرقندی تحفۃ الفقہاء (2/251) میں کہتے ہیں:

"سوگ کا مطلب یہ ہے کہ: عورت ہر ایسے کام سے اجتناب کرے جو خواتین بناؤسنگھار کیلیے کرتی ہیں،  جیسے کہ میک اپ کرنا،  رنگے ہوئے کپڑے پہننا، عصفر [زرد رنگ دینے کیلیے استعمال ہونے والی بوٹی] اور زعفران  سے رنگا ہوا لباس، سرمہ ڈالنا، جسم پر تیل وغیرہ لگانا، بال سنوارنا، زیور پہننا، اور خضاب وغیرہ کا استعمال کرنا" ختم شد

اسی طرح تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق از زیلعی (3/34) میں ہے کہ:
"خاوند کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت سوگ منائے گی اور اس کیلیے بناؤ سنگھار ، سرمہ ڈالنے اور تیل لگانے سے باز رہے، الا کہ کوئی عذر ہو تو، اسی طرح مہندی لگانے، عصفر یا زعفران میں رنگا ہوا لباس پہننے سے بھی باز رہے، اگر وہ عورت بالغ اور مسلمان ہو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کیلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ خاوند کے  علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، خاوند کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے گی اس دوران سرمہ مت ڈالے، رنگدار کپڑے مت پہنے، عصبی کپڑا [ایسا کپڑا جس کے دھاگوں کو رنگ کر کپڑا بنایا گیا ہو]پہن سکتی ہے، خوشبو کا استعمال صرف اسی وقت کرے جب حیض سے پاک ہو، قسط یا اظفار نامی خوشبو دار بوٹی کی دھونی  لے)  متفق علیہ ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (جس عورت کا خاوند فوت ہو چکا ہو وہ عصفر  بوٹی یا مشق [سرخ رنگ کی مٹی] سے رنگے ہوئے کپڑے مت پہنے، زیور زیب تن مت کرے، خضاب اور سرمہ مت استعمال کرے) احمد، ابو داود، نسائی نے اسے روایت کیا ہے" ختم شد

حنفی فقہائے کرام بیوہ خاتون کو دوران عدت اور سوگ دن کے وقت ضرورت کی بنا پر گھر سے نکلنے کو جائز قرار دیتے ہیں، مثلاً: کام کاج  اور علاج کیلیے گھر سے باہر جانا وغیرہ، لیکن اس کیلیے شرط یہ لگاتے ہیں کہ رات سے پہلے گھر واپس آ جائے  اور رات گھر میں ہی بسر کرے، جیسے کہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق و منحۃ الخالق (4/166) میں ہے کہ:
"وفات کی عدت گزارنے والی خاتون حصولِ معاش کے سلسلے میں دن  اور رات کے کچھ حصے تک گھر سے باہر جا سکتی ہے ۔۔۔۔ تاہم کسی سے ملنے کیلیے یا کسی اور کام کیلیے  رات یا دن کے کسی وقت میں گھر سے باہر نہیں جا سکتی۔

حاصل کلام یہ ہے کہ: گھر سے باہر جانے کی اجازت حصولِ معاش کی وجہ سے ہے، لہذا جس قدر وقت میں اسے بقدر ضرورت روزی مل جائے   تو اس کے بعد اس کیلیے وقت اپنے گھر سے باہر گزارنا جائز نہیں ہے" ختم شد

اور کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس خاتون کا خاوند فوت ہو گیا ہے وہ رات کے وقت گھر سے باہر مت نکلے، البتہ اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کیلیے دن میں گھر سے باہر جا سکتی ہے؛ کیونکہ دن میں اسے اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرنے کیلیے گھر سے نکلنا پڑے گا؛ کیونکہ فوت شدہ خاوند تو اس پر اب خرچ نہیں کر سکتا، اب اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے گھر سے نکلنا پڑے گا تا کہ اپنی ضروریات پوری کر سکے، تاہم رات کے وقت گھر سے باہر مت نکلے کیونکہ رات کو روزی کیلیے نکلنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ مطلقہ خاتون کا خرچہ تو خاوند کے ذمے ہوتا ہے اس لیے اسے گھر سے نکلنے کی سرے سے ہی ضرورت نہیں ہے" ختم شد

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3 / 205)

دوران عدت گھر میں رہنا اور بناؤ سنگھار سے اجتناب کرنا یہ چاروں فقہی مذاہب کے ہاں تقریباً متفقہ مسئلہ ہے۔

چنانچہ مالکی فقہائے کرام میں سے ابن عبد البر  " الكافي في فقه أهل المدينة " (2/622) میں کہتے ہیں:
"سوگ منانا ہر عورت پر واجب ہے، یہاں تک کہ اس کی عدت کے ایام مکمل ہو جائیں یا حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل تک۔۔۔ اور سوگ منانے کا مطلب یہ ہے کہ: ہر ایسے کام سے بچیں جو خواتین بناؤ سنگھار کیلیے کرتی ہیں، مثلاً زیور پہننا، میک اپ کرنا،  سرمہ لگانا، خضاب لگانا، رنگدار اور رنگین لباس پہننا یا ایسا سفید لباس پہننا جو بناؤ سنگھار میں پہنا جاتا ہے۔۔۔زیور انگوٹھی وغیرہ تو یہ بیوہ خاتون کیلیے سوگ کے دوران پہننا جائز نہیں ہے، اسی طرح ہمہ قسم کی خوشبو، لیکن اگر سرمہ ڈالنے کی ضرورت محسوس ہو تو رات کے وقت سرمہ ڈال لے اور صبح آنکھیں دھو لے، کسی بھی خوشبو دار چیز کے قریب نہ جائے، اور جو چیزیں بناؤ سنگھار میں شامل نہیں ہوتیں انہیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔" ختم شد

جبکہ شافعی فقہائے کرام میں سے ابو اسحاق شیرازی (التنبيه في الفقه الشافعي) (1 / 201) میں کہتے ہیں کہ:
"سوگ: یہ ہے کہ زیب و زینت ترک کر دے، زیور مت پہنے، خوشبو اور خضاب کا استعمال نہ کرے، بال مت سنوارے، اثمد یا تھوہر آنکھوں میں مت لگائے، اگر ضرورت پڑ بھی جائے تو رات کو لگا لے اور دن میں آنکھیں دھو لے، خالص سرخ یا نیلا لباس مت پہنے، بغیر ضرورت کے گھر سے مت نکلے،  اور اگر کہیں ضرورت پڑ بھی جائے تو رات کے وقت پھر بھی باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، البتہ بیوہ عورت دن میں اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے گھر سے باہر جا سکتی ہے  " ختم شد

جبکہ حنبلی فقہائے کرام میں سے ابن قدامہ مقدسی  عمدۃ الفقہ (1/107) میں لکھتے ہیں:
"باب ہے سوگ کے بار ے میں : جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو اس پر سوگ واجب ہے، سوگ یہ ہے کہ ہمہ قسم کی زیب و زینت اور بناؤ سنگھار سے اجتناب کرے، خوشبو، سرمہ، رنگدار کپڑے  خوبصورتی کیلیے استعمال نہ کرے۔۔۔ ایسی عورت پر اگر ممکن ہو تو اُسی گھر میں راتیں گزارنا ضروری ہے جہاں اس پر عدت واجب ہوئی تھی اور وہ اس جگہ رہ رہی تھی ۔" ختم شد

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں