بدھ 11 جمادی اولی 1440 - 16 جنوری 2019
اردو

وارث كےليے وصيت نہيں

23300

تاریخ اشاعت : 07-12-2004

مشاہدات : 2519

سوال

جب متوفي شخص نےفقراء ومساكين كےليےايك تہائي مال كي وصيت كي ہو اوراگر اس كےوارث فقير ہوں توكيا ان كےليےاس وصيت سے مال حاصل كرنا جائزہوگا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جي ہاں جائزہے ، شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كا كہنا ہےكہ:

( ورثاء كي رضامندي كےبغير كسي وارث كےليےايك تہائي حصہ كي وصيت كرنا صحيح نہيں ، اوراس كےوارث اوصاف كےاعتبار كےوصيت ميں داخل ہونگے ليكن بعينہ داخل نہيں ) اھ ديكھيں : الاختيارات ( 190 )

اورمعني يہ ہےكہ : وصيت عام ہے، جب وصيت اوصاف كےمطابق ہو تواس سےكسي معين شخص مقصود نہ ہو مثلااگرفقراء يا طالب علموں يا مجاھدين وغيرہ اوصاف كےليےوصيت كي توجوبھي ان اوصاف كامالك ہو وہ وصيت سےلےگا اگرچہ وہ وارث ہي ہو ، ليكن اگروصيت عام اور معين اشخاص كےليےہے مثلا اگراس نےاپنےرشتہ داروں كےليے وصيت تواس وصيت ميں وارث شامل نہيں ہونگے.

واللہ اعلم  .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں