جمعہ 14 شعبان 1440 - 19 اپریل 2019
اردو

مکہ اور مدینہ کے فضائل

235370

تاریخ اشاعت : 22-08-2017

مشاہدات : 2047

سوال

مدینہ میں زندگی بسر کرنا بہتر ہے یا مکہ مکرمہ میں؟ ان مقدس شہروں کی فضیلت میں نماز کے اجر کے علاوہ اور کیا کیا فرق ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اس سر زمین پر ذاتی حیثیت سے افضل ترین خطہ مکہ مکرمہ کا ہے اور پھر اس کے بعد مدینہ ہے۔

البتہ لوگوں کے اعتبار سے وہی خطہ اور علاقہ افضل ہے جہاں رہنے پر انسان کا  ایمان بڑھے اور  وہاں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کی عبادات کرے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہر شخص کے اعتبار سے  افضل ترین دھرتی وہی ہے جہاں پر انسان اللہ اور اس کے رسول کا تابعدار بن کر رہے، اور یہ صورت حالات اور واقعات کے اعتبار سے ہر شخص کیلیے الگ الگ ہوتی ہے، لہذا یہ بات یقینی طور پر نہیں کی جا سکتی  کہ فلاں جگہ رہائش انسان کیلیے افضل  ہوگی، چنانچہ جس جگہ پر انسان کا تقوی، اطاعت گزاری، خشوع و خضوع اور حاضر قلبی جس قدر زیادہ ہو گی وہیں پر انسان  کیلیے رہنا افضل ہو گا۔ اسی لیے جب ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سلمان رضی اللہ عنہ کی جانب لکھا تھا کہ : " مقدس سرزمین میں آ جاؤ" تو اس کے جواب میں سلمان رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا کہ: "زمین  کسی کو مقدس نہیں بناتی، انسان کو اس کی کارکردگی ہی مقدس بناتی ہے"" انتہی
"مجموع الفتاوى" (18/ 283)

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (199894) اور سوال نمبر: (163521) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:

مکہ کے مدینہ اور دیگر تمام علاقوں سے  زیادہ فضائل ہیں، جن میں سے کچھ ہم یہاں ذکر کرتے ہیں:

- مسجد الحرام میں ایک نماز دیگر تمام مساجد کی نمازوں سے ایک لاکھ درجے سے بھی بہتر ہے، ما سوائے مسجد نبوی کے ، مسجد نبوی میں ایک ہزار نماز  کا ثواب ملتا ہے۔

- مکہ کو حج، عمرہ، طواف، حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونے ، نیز صفا مروہ کی سعی  جیسی امتیازی عبادات حاصل ہیں۔

- اللہ تعالی نے مکہ شہر کی قسم اٹھائی ہے:  ( لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ )
ترجمہ: میں اس شہر کی قسم  اٹھاتا ہوں۔[البلد:1]
اس آیت کے شروع میں "لا" تاکید کیلیے ہے۔

- اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن مکہ کو قابل احترام قرار دیا تھا، لیکن مدینہ کے متعلق ایسا نہیں کہا گیا تھا۔

- مکہ کی حرمت مدینہ کی حرمت سے کہیں سخت ہے، اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مدینہ بھی قابل احترام ہے، اس کی حدود حرم بھی ہیں تاہم مدینہ کا احترام مکہ کے احترام سے کہیں کم ہے؛ کیونکہ حرم مکی میں کوئی بھی مسلمان [حج یا عمرے کی نیت سے ]داخل ہو تو  وہ احرام کے بغیر داخل ہی نہیں ہو سکتا، جبکہ مدینہ کیلیے یہ شرط نہیں ہے۔

- حرم مکی میں گھاس پھوس  اور درخت وغیرہ مطلق  طور پر کاٹنے حرام ہیں، جبکہ مدینہ میں کچھ گنجائش  اور رخصت ہے کہ بعض نباتات کھیتی باڑی کیلیے کاٹی  جا سکتی ہیں۔

- مکہ میں شکار کرنے پر اس کا فدیہ دینا پڑے گا، جبکہ مدینہ  میں شکار  کرنے پر فدیہ نہیں ہے۔

مختصرا یہ کہ: سب سے پر امن جگہ مکہ مکرمہ ہے حتی کہ مکہ کے درختوں کو بھی امن حاصل ہے یہاں کے شکار کو بھی امن حاصل ہے" انتہی
"لقاء الباب المفتوح" (103 /2) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق

جبکہ مدینہ کے فضائل یہ ہیں:

- مدینہ منورہ دار ہجرت ہے، مہاجرین اور انصار کا سنگم ہے، یہ دار الجہاد ہے کیونکہ یہاں سے ہی جہادی لشکر روانہ ہوتے تھے، اسی شہر سے غزوے اور سرایا کیلیے فوجی مہمیں روانہ ہوتی تھیں، جس کے نتیجے میں علاقے فتح ہوئے، دین اسلام پھیلا اور پھولا، شرک اور مشرکوں کی بیخ کنی ممکن ہوئی۔

اسی شہر میں احکام پر مشتمل آیات اور شرعی آداب نازل ہوئے،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مکہ فتح کیا تو مکہ میں نہیں ٹھہرے بلکہ  دارِ ہجرت مدینہ واپس آ گئے اور اپنی وفات تک یہیں پر رہے اور اسی شہر میں دفن ہوئے۔

بخاری: (3778)  اور مسلم: (1059)  میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر قریش میں مال غنیمت تقسیم کیا تو اس وقت انصار نے کہا: "اللہ کی قسم! یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کہ ہماری تلواروں سے قریشیوں کا خون اب تک ٹپک رہا ہے اور ہمارا حاصل کردہ مال غنیمت ان میں تقسیم کیا جا رہا ہے!!"  تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلوا بھیجا۔ انس کہتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: (مجھے تمہاری طرف سے کوئی بات پہنچی ہے، کیا وہ صحیح ہے؟) انس کہتے ہیں کہ: انصار غلط بیانی نہیں کرتے تھے ، چنانچہ انہوں نے کہہ دیا: "جو بات آپ کو پہنچی ہے سچ ہے" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں غنیمت کا مال لیکر جائیں اور تم اپنے گھروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ؟ اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلنا شروع کر دیں تو میں بھی انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلنا شروع کر دوں گا)"

اسی طرح بخاری: (1871) اور مسلم : (1382) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو بستیوں کو کھا جاتی ہے جسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے، یہ بستی [بد کار] لوگوں کو ایسے دور کر دیتی ہے جیسے بھٹی زنگ کو لوہے سے دور کر دیتی ہے)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بستیوں کو کھا جانے کے بارے میں دو مفہوم ہیں:  پہلا مفہوم یہ ہے کہ : ابتدائے اسلام میں مدینہ اسلامی لشکروں کا مرکز تھا، چنانچہ یہاں سے لشکر روانہ ہوئے اور دیگر علاقے فتح ہوئے، ان علاقوں کا مال غنیمت اور لونڈیاں یہاں لائے گئے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ: مدینہ شہر کی کھانے پینے اور دیگر ضروریات  زندگی مفتوحہ علاقوں سے یہاں لائی جائیں گی، وہاں سے حاصل شدہ  مال غنیمت اسی شہر کی جانب لایا جائے گا۔" انتہی
" شرح النووی علی مسلم" (9/ 154)

اسی طرح بخاری : (1876)اور مسلم : (147) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک ایمان مدینہ میں ایسے پناہ پکڑے گا جیسے سانپ اپنے بل میں پناہ پکڑتا ہے)
حدیث کے عربی الفاظ: "يَأْرِزُ"یعنی پناہ پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ:  سکڑ کر اکٹھا ہو کر اس طرح پناہ پکڑے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سکڑ کر اور اکٹھا ہو کر پناہ پکڑتا ہے۔"مرقاة المفاتيح" (1/ 243)

یعنی مطلب یہ ہوا کہ مدینہ  شہر جیسے ابتدا میں اہل اسلام کا سنگم تھا اسی طرح آخری دور میں بھی اہل اسلام کا سنگم بنے گا۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"[حدیث کے عربی الفاظ] (يَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ) کا معنی یہ ہے کہ: ایمان کی جس طرح ابتدائے اسلام میں حالت تھی تو آخری دور میں یہی حالت ہو گی ؛ کیونکہ ابتدائے اسلام میں جو شخص بھی خالص ایمان والا تھا وہ سچا مسلمان تھا تو وہ مدینہ ضرور آیا، یا تو اپنا علاقہ چھوڑ کر مدینہ میں آ کر آباد ہو گیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کیلیے شوق اور محبت سے کھنچتا چلا آیا، تا کہ دین کی باتیں آپ سے براہِ راست سیکھ لے اور کچھ لمحات آپ کے قرب میں گزارے، یہی سلسلہ پھر خلفائے راشدین کے عہد میں بھی جاری رہا تا کہ عدل و انصاف کرنے والے خلفائے راشدین سے تربیت حاصل کرے اور مدینہ منورہ میں موجود جمہور صحابہ  کرام کو دیکھ کر ان کی اقتدا کرے، پھر ان کے بعد بھی سلسلہ جاری رہا کہ  اس وقت کے منارۂ علم  اور ائمہ ہُدی سے علم حدیث سیکھنے کیلیے لوگ  یہاں آتے رہے، الغرض کامل ایمان کا حامل ہر شخص مدینہ کا رخ ضرور کرتا ہے" انتہی
"شرح النووي على مسلم" (2/ 177)

- یہ بھی مدینہ شہر کی فضیلت ہے کہ یہاں مسجد نبوی ہے، یہاں ریاض الجنۃ ہے۔ بخاری: (1196) اور مسلم: (1391) کے مطابق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ  جنت کی کیاریوں میں سے کیاری ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے)

- یہ بھی فضیلت ہے کہ: یہاں وادی عقیق ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بابرکت قرار دیا ہے، چنانچہ بخاری: (1534) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ کہہ رہے تھے کہ : "میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق کے پاس  سنا آپ فرما رہے تھے: (میرے رب کی طرف سے آنے والا [جبریل]رات کو میرے پاس  آیا  اور مجھے حکم دیا: اس بابرکت وادی میں نماز ادا کرو، اور کہو: عمرہ کو حج میں  داخل کرتا ہوں)"

- اسی طرح مدینہ کی یہ بھی فضیلت ہے کہ:  جو بھی اہل مدینہ کے بارے میں برا ارادہ رکھے گا تو اللہ تعالی اسے تباہ فرما دے گا۔

چنانچہ صحیح بخاری: (1877) اور مسلم : (1363) میں سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (اہل مدینہ کے بارے میں کوئی بھی مکاری کرے تو وہ ایسی ہی پگھل جاتا ہے جیسے پانی میں نمک)

جسے اللہ تعالی مکہ میں رہنا نصیب فرمائے تو اسے مکہ میں رہنا مبارک۔ اور جسے اللہ تعالی مدینہ میں رہنا نصیب فرمائے تو اس کیلیے مدینہ میں رہنا مبارک۔ اور جسے اللہ تعالی اس دھرتی پر کہیں بھی تقوی کے ساتھ رہنا نصیب کرے تو یہ بھی اس کیلیے باعث برکت ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں