ہفتہ 14 محرم 1446 - 20 جولائی 2024
اردو

مسبوق نمازی کے لیے احکام

سوال

اگر کوئی شخص نماز با جماعت میں کچھ رکعات گزرنے کے بعد شامل ہو تو اس کے بارے میں مجھے تفصیلی احکامات سے آگہی چاہیے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

[ایسے نمازی کو فقہی اصطلاح میں مسبوق کہتے ہیں، جیسے کہ] " الموسوعة الفقهية " (3/353) میں ہے کہ:
"مسبوق: ایسے نمازی کو کہتے ہیں کہ جس سے جماعت کی تمام یا کچھ رکعات رہ جائیں اور تاخیر سے نماز با جماعت میں شامل ہو۔" ختم شد

دوم: ایسے نمازی کے لیے احکامات میں سے چند یہ ہیں:

1-مسبوق نمازی مسجد کی طرف آتے ہوئے اطمینان اور سکون کے ساتھ آئے۔

مسبوق نمازی امام کے ساتھ جو نماز بھی پائے گا وہ اس کی ابتدائی نماز ہو گی، چنانچہ اگر مسبوق نمازی امام کے ساتھ مغرب کی دوسری رکعت میں ملتا ہے تو یہ امام کی تو دوسری رکعت ہو گی لیکن مسبوق نمازی کی پہلی رکعت ہو گی۔

ان دونوں حکموں کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے: (جب تم اقامت کی آواز سنو تو نماز کے لیے چلتے بنو، اور اپنے آپ پر اطمینان اور سکون لازم رکھو، جلد بازی مت کرو، نماز کا جو حصہ پا لو ادا کر لو، اور جو حصہ رہ گیا اسے بعد میں پورا کر لو۔) بخاری: (600)

کچھ اہل علم نے ایک استثنائی صورت ذکر کی ہے کہ اگر جماعت فوت ہو جانے کا خوف ہو تو نمازی کے لیے معمولی تیزی اختیار کرنے کی اجازت ہے، صرف اس لیے کہ جماعت کی نماز پا لے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (23426 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

2-مسبوق نمازی امام کو رکوع کی حالت میں پائے تو نمازی پر لازم ہے کہ کھڑے ہو کر پہلے تکبیر تحریمہ کہے، چنانچہ اگر نمازی نے جھکتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہی تو اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی۔

جیسے کہ علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سیدھے کھڑے ہو کر قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہنا واجب ہے؛ کیونکہ نماز میں قیام واجب ہے ، اسی طرح مسبوق نمازی جو امام کو رکوع کی حالت میں پاتا ہے اس پر واجب ہے کہ تکبیر تحریمہ کے تمام حروف مکمل طور پر قیام کی حالت ادا ہوں؛ کیونکہ اگر مسبوق نمازی تکبیر تحریمہ کا ایک حرف بھی قیام کی حالت میں نہیں کہتا تو اس کی فرض نماز منعقد نہیں ہو گی۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔" ختم شد
" المجموع " (3/296)

3-مسبوق نمازی امام کو رکوع کی حالت میں پائے، تو محتاط عمل یہ ہے کہ دو بار تکبیر کہے: پہلی تکبیر بطور تکبیر تحریمہ ، اور دوسری تکبیر رکوع کے لیے کہے، تاہم اگر صرف تکبیر تحریمہ کے لیے تکبیر کہتا ہے، اور پھر بغیر تکبیر کے رکوع میں چلا جاتا ہے تو اہل علم کے صحیح ترین موقف کے مطابق اس کا یہ عمل کفایت کر جائے گا۔

جیسے کہ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"مقتدی نماز میں شامل اس وقت ہوا جب امام رکوع کی حالت میں تھا، تو کیا وہ دو تکبیریں [تکبیر تحریمہ، اور تکبیر انتقال] کہہ کر رکوع میں جائے گا، یا صرف ایک تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے؟

جواب: بہتر اور محتاط عمل یہی ہے کہ دو بار تکبیر کہے: پہلی تکبیر ، بطور تکبیر تحریمہ جو کہ نماز کا رکن بھی ہے اور اسے مکمل قیام کی حالت میں کہنا واجب ہے۔

 اور دوسری تکبیر رکوع کے لیے کہے گا، یعنی جب رکوع کے لیے جھکتے ہوئے تکبیر کہے، لیکن اگر نمازی کو رکعت فوت ہونے کا خدشہ ہو تو اہل علم کے دو اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق ایک تکبیر بھی کافی ہے؛ کیونکہ دو عبادتیں ایک وقت میں جمع ہو گئیں ہیں تو اس لیے بڑی چھوٹی سے کفایت کر جائے گی، لہذا اکثر علمائے کرام کے ہاں اس کی رکعت صحیح ہو گی۔" ختم شد
" مجموع فتاوى ابن باز " (11/245)

4-اگر مقتدی امام کو رکوع کی حالت میں پائے تو اس کی یہ رکعت ہو جائے گی، چاہے مقتدی رکوع کی تسبیح امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کہے۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (75156 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

5-اگر مسبوق نمازی کو شک ہو کہ کیا اس نے امام کے ساتھ رکوع پایا ہے یا نہیں؟ تو اس صورت میں مقتدی غالب گمان کے مطابق فیصلہ کرے، لہذا اگر مقتدی کو غالب گمان ہو کہ اس نے رکوع پا لیا ہے تو وہ ایسے ہی ہے کہ اس نے رکعت پا لی ہے، اور اگر اسے غالب گمان ہو کہ اس نے رکوع نہیں پایا تو پھر اسے رکعت پانے والا شمار نہیں کیا جائے گا۔

جیسے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ الشرح الممتع: (3/383) میں کہتے ہیں:
"سوال: اگر نمازی مسجد میں آیا اور امام رکوع کی حالت میں تھا تو نمازی نے تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع کر لیا، پھر اسے شک ہوا کہ کیا اس نے امام کو رکوع کی حالت میں پایا بھی ہے یا نہیں؟ کہیں میرے رکوع میں جانے سے پہلے امام نے رکوع سے سر تو نہیں اٹھا لیا تھا؟

تو اس سوال کے جواب میں مؤلف کا یہ موقف ہے کہ: اسے رکعت شمار نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ نمازی کو شک لاحق ہو گیا ہے کہ رکوع پایا ہے یا نہیں؟ اس لیے یقین پر بنیاد رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا اور وہ یہ ہے کہ اس نے رکوع نہیں پایا، اس لیے اسے رکعت شمار نہیں کرے گا۔

دوسرے قول کے مطابق: یعنی غالب گمان پر عمل کریں تو ہم اس نمازی سے کہیں گے کہ: کیا آپ کو گمان ہے کہ آپ نے امام کو رکوع کی حالت میں پا لیا تھا یا نہیں؟ اگر وہ کہے کہ مجھے غالب گمان یہ لگتا ہے کہ میں نے پا لیا تھا، تو ہم کہیں گے کہ آپ کی یہ رکعت شمار ہو گئی۔

اور اگر کہے کہ مجھے غالب گمان یہ لگتا ہے کہ میں رکوع میں امام کو نہیں پا سکا، تو ہم اسے کہیں گے: تم اس کو رکعت شمار نہ کرو، اور اپنی نماز مکمل کرو۔

اور اگر نمازی کہے: مجھے تردد ہے، غالب گمان نہیں ہے کہ میں نے امام کے ہمراہ رکوع پا لیا تھا، تو ہم اسے کہیں گے کہ: اس صورت میں یقینی بات یہ ہے کہ آپ نے رکوع نہیں پایا، تو اس لیے آپ اسے رکعت شمار نہ کریں، اور اپنی نماز مکمل کریں۔" ختم شد

6-مسبوق نمازی کے لیے یہ جائز ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے نماز ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے اگلی صف میں نماز ادا کرنے کی جگہ نہ ملے۔

 

7-اگر امام بھول کر ایک رکعت زیادہ پڑھا دے، تو کیا مسبوق نمازی اس زائد رکعت کو اپنے لیے شمار کرے گا؟ اس حوالے سے اہل علم کا اختلاف ہے۔

چنانچہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"اگر کسی امام نے بھول کر پانچ رکعات پڑھا دیں اور کوئی شخص امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہوا تھا تو کیا امام کے ساتھ سلام پھیر دے یا کھڑے ہو کر رکعت ادا کرے گا؟
تو انہوں نے جواب دیا:
علمائے کرام کا اس مسئلے میں اختلاف ہے، تو کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ جس امام نے پانچ رکعت بھول کر پڑھائی ہیں وہ سلام پھیرے تو مسبوق نمازی پر ایک اور رکعت پڑھنا لازم ہے، چنانچہ اس طرح امام اور مقتدی دونوں ہی پانچ رکعت ادا کرنے والے بن جائیں گے، ان کے ہاں اس موقف کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جتنی جماعت پا لو اتنی پڑھ لو اور جو رہ گئی تھی اسے پورا کر لو) ان اہل علم کا کہنا ہے کہ: چونکہ اس نمازی کی ایک رکعت رہ گئی تھی اس لیے اس پر فوت شدہ رکعت پڑھنا لازم ہے۔

لیکن راجح موقف یہ ہے کہ : ایسے نمازی کے لیے عمداً پانچویں رکعت پڑھنا جائز ہی نہیں ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ امام کے ساتھ سلام پھیر دے؛ کیونکہ امام نے پانچویں رکعت بھول کر ادا کی ہے اس لیے امام اپنے اس عمل میں معذور بھی ہے، لیکن یہ مقتدی کو تو بھول نہیں لگی، لہذا اگر اسے علم ہے کہ اس کی چار رکعات ہو چکی ہیں تو اس کے لیے چار سے زیادہ رکعات نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

جبکہ حدیث مبارکہ میں جس چیز کا تذکرہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ: نماز کا جو حصہ کم رہ گیا ہے وہ پورا کرے، لیکن اس شخص نے تو امام کے ساتھ پوری چار رکعات ادا کر لی ہیں، اس لیے یہ حدیث اس مقتدی کے بارے میں نہیں ہے۔ واللہ اعلم" ختم شد
" مجموع فتاوی ابن عثیمین" (14/ 20)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (49046 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

8-اگر امام سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو مسبوق نمازی بھی امام کے ساتھ سجدہ کرے گا، چاہے مسبوق نمازی امام کے ساتھ نماز میں سہو سے پہلے شامل ہوا ہو یا بعد میں، لیکن اگر امام سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے تو پھر مسبوق پر امام کے ساتھ سجدہ سہو میں متابعت لازم نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اس صورت حال میں امام کی متابعت کر ہی نہیں سکتا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (72290) کا جواب ملاحظہ کریں۔

9-مسبوق شخص اس وقت تک جماعت پانے والا قرار دیا جائے گا جب رکعت پا لے گا، اور رکعت پانے کے لیے رکوع پانا ضروری ہے۔

جیسے کہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی-ایڈیشن دوم-:( 6/225) میں ہے:
"صحیح موقف کے مطابق جماعت پانے والا نمازی وہی ہو گا جو رکعت پائے گا؛ کیونکہ حدیث مبارکہ ہے کہ: (جس نے نماز کی ایک رکعت پائی اس نے نماز پا لی) اس حدیث کو امام مسلم نے صحیح مسلم میں بیان کیا ہے، اور رکعت رکوع پانے سے حاصل ہو جاتی ہے۔" ختم شد

11-اگر مسبوق نمازی آخری رکوع کے بعد آئے تو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے، سلام پھیرنے کے بعد تک دوسری جماعت کا انتظار نہ کرے۔

جیسے کہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی-ایڈیشن دوم-:( 6/225) میں ہے:

"اگر کوئی نمازی آخری رکوع کے بعد آئے تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ جتنی بھی نماز امام کے ساتھ ملتی ہے اس میں شامل ہو جائے ؛ کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان عام ہے: (جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون کے ساتھ آؤ، جو پا لو وہ پڑھ لو، اور جو رہ گئی اسے پورا کر لو۔) تو یہ حدیث آخری رکوع سے پہلے اور بعد دونوں کے لیے عام ہے۔" ختم شد

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (31029 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

12- اگر مسبوق نمازی جمعہ کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع کے بعد شامل ہو تو اسے جمعہ کی نماز نہیں ملی ہے، اس بنا پر: جب امام نے دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا لیا تو اب اس نمازی سے جمعہ فوت ہو گیا ہے، یہ نمازی امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد بطور ظہر 4 رکعت نماز مکمل کرے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (12601 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

13- مسبوق نمازی کے لیے یہ بہتر ہے کہ رہ جانے والی رکعات کی ادائیگی کے لیے تبھی کھڑا ہو جب امام دونوں جانب سلام پھیر لے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (119604) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب