جمعرات 15 رجب 1440 - 21 مارچ 2019
اردو

تجارت ميں چلنے والے مال كى زكاۃ

2544

تاریخ اشاعت : 23-11-2005

مشاہدات : 3980

سوال

ميرے پاس كچھ رقم ہے جو زكاۃ كے نصاب سے زيادہ ہے، ميں نے اس ميں سے كچھ رقم تو تجارت ميں لگا ركھى ہے، اس برس كى زكاۃ كے حساب كے وقت كيا ميرے ليے يہ رقم اپنے پاس موجود رقم كے ملانا ضرورى ہے، حالانكہ ميں نے يہ رقم تجارت ميں لگانے كے بعد واپس نہيں لى، يا كہ ميرے ليے زكاۃ كا حساب اسى مال ميں كرنا كافى ہے جو اب ميرے پاس ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جب آپ كے مال پر سال مكمل ہو جائے تو آپ اس كى زكاۃ نكاليں گے چاہے وہ آپ كے پاس ہے يا وہ تجارت ميں لگى ہوئى ہے، اور اگر اس كا كوئى منافع ہو تو اس كا سال اصل مال كا سال شمار كيا جائے گا.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں