جمعہ 19 رمضان 1440 - 24 مئی 2019
اردو

دل ميں جہاد كرنے كے شوق كا معنى، اور دعوت و تبليغ اور جہاد ميں تطبيق

2606

تاریخ اشاعت : 27-04-2008

مشاہدات : 5234

سوال

ميں يونيورسٹى كا طالب علم ہوں، اور ايك يونيورسٹى ميں كمپيوٹر انجنيرنگ كر رہا ہوں، ان شاء اللہ آئندہ برس فارغ ہو جاؤں گا، الحمد للہ ميں شادى شدہ ہوں، اور ان شاء اللہ بچے كا انتظار ہے.
الحمد للہ ميں دينى امور سيكھنے كى كوشش اور انہيں سلف كے منہج پر لاگو كرنے كى جدوجہد كرتا ہوں، ميں جانتا ہوں كہ صحيح اور سيدھا راستہ يہى ہے، ليكن ايك جہاد كا موضوع ايسا ہے جو ميرى سمجھ سے بالا تر ہے، اللہ كى مشيئت سے آپ مجھے درج ذيل امور كے متعلق نصيحت فرمائيں:
1 - جہادى سلسلے ميں مجھ پر كيا واجب ہوتا ہے؟
2 - صحيح مسلم كى اس حديث كا معنى كيا ہے: ؟
" جو شخص جہاد كيے بغير فوت ہوا يا اس كے دل ميں كبھى جہاد كى سوچ بھى پيدا نہ ہوئى تو وہ نفاق كى ايك قسم پر مرا"
3 - ميں اپنے آپ كو جہاد كے ليے كس طرح تيار كر سكتا ہوں؟
4 - ميں حصول علم اور دعوت و تبليغ اور جہاد كے درميان تطبيق كس طرح كر سكتا ہوں ؟
گزارش ہے كہ مندرجہ بالا سوالات كا جواب ديں.

جواب کا متن

الحمدللہ:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں كہا ہے:

جہاد كيے بغير يا دل ميں جہاد كرنے كى خواہش لائے بغير مرنے والے شخص كى مذمت كا باب.

پھر اس كے بعد ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى مندرجہ ذيل حديث روايت كى ہے:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے نہ تو جہاد كيا اور نہ ہى اس كے دل ميں جہاد كرنے كى خواہش پيدا ہوئى اور وہ مر گيا تو وہ نفاق كى ايك نوع اور قسم پرمرا"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 3533 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى اس حديث كى شرح ميں كہتے ہيں:

اس سے مراد يہ ہے كہ ايسا كرنے والا شخص جہاد سے پيچھے رہنے والے منافقين سے اس وصف ميں مشابہت ركھتا ہے، كيونكہ جہاد ترك كرنا نقاق كى ايك قسم ہے.

اور اس حديث ميں ہے كہ: جس نے بھى كسى عبادت كى نيت كى اور اسے كرنےسے قبل فوت ہوگيا تو اسے اس طرح قابل مذمت نہيں ٹھرايا جائے گا جس طرح يہ نيت كيے بغير مرنے والا قابل مذمت ہوتا ہے.

اور سنن نسائى كے حاشيہ ميں سندى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

قولہ: " اور نہ ہى اس كے دل ميں جہاد كا خيال پيدا ہوا "

يہ تحديث سے ہے، كہا گيا ہے كہ: وہ اپنے دل ميں يہ كہے كہ كاش ميں بھى غازى اور مجاہد ہوتا، يا اس سے مراد يہ ہے كہ: اس نے جہاد كى نيت ہى نہ كى، اور اس كى علامت جہاد كے ليے آلات تيار كرنا ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اگر وہ نكلنے كا ارادہ كرتے تو اس كے ليے تيارى بھى كرتے}.

اور جہاد كے ليےنفس كو تيار كرنے كے كئى ايك امور ہيں، جن ميں سے كچھ ذيل ميں ذكر كيے جاتے ہيں:

جہاد كى فضيلت اور اس كے احكام كى معرفت حاصل كرنا، اور نفس كو ہر قسم كى اطاعت و عبادات كے ساتھ تيار كرنا، اور قربانى ديتے پر اس كى تربيت كرنا، اور اسے ايثار كرنے كى ترغيب اور اللہ تعالى كى راہ ميں خرچ كرنے كى ترغيب دينا، اور اسى طرح مجاہدين اور اسلام كے ہيرو اور قائدين اور معركوں كى سيرت كا مطالعہ كرنا.

اور بار بار دل ميں يہ بات لائى جائے كہ اگر كوئى جہاد كرنےوالا آيا اور جہاد شروع ہوا، اور جہاد كا كوئى راستہ نكلا اور استطاعت ہوئى تو وہ ضرور جہاد كے ليے نكلےگا، اور اسے ميدان جنگ سے بھاگنے والے كا گناہ اور كفار كے سامنے سے فرار ہونے والے كى معصيت كا علم ہونا چاہيے، اور مكى اور مدنى دور كى سيرت نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا مطالعہ كرنا چاہيے، اور اسى طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں ہونے والے غزوات اور معركوں كا بھى مطالعہ كرنا چاہيے، اوراسے علم ہونا چاہيے كہ يہ كس طرح ہوا، اور اس كى ابتداء كيسے ہوئى، اور تيارى كس طرح كى جاتى تھى، اور سبب كيسے اپنائے جاتے تھے.

اور جہاد ميں مرحلاتى مسائل كى سمجھ ہونى چاہيے، كہ سب سے پہلے قريبى دشمن سے شروع كيا جائے، اور پھر سب مشركوں سے قتال ہو، اور نفاق كى حركتوں سے اجتناب كيا جائے، اور جہاد كى چاروں اقسام، شيطان اور نفس كے ساتھ جہاد، اور كفار اور منافقوں كے ساتھ جہاد كو پورا كيا جائے.

اور جہاد بالمال اور جہاد بالنفس كى اہميت كو بھى سمجھا جائے.

ميرے بھائى آپ كو علم ہونا چاہيے كہ دعوت اور جہاد ميں جمع كرنا كوئى مشكل نہيں، ان ميں سے ہر ايك كا ايك وقت اور طريقہ ہے، بلكہ مسلمان مجاہدين جنہوں نے علاقے فتح كيے تھے وہى معركہ سے قبل دعوت كا كام كرتے تھے، اور جب وہ كوئى علاقہ فتح كر ليتے تو وہاں كے باشندوں كو دعوت الى اللہ ديتے، اور انہيں دينى تعليم ديتے.

اور جب جہاد كا وقت نہ ہو اور كوئى معركہ نہ ہو رہا ہو تو اور كوئى ميدان مفتوح نہ ہو تو دعوت وتبليغ كے دروازئے كھلے ہوئے ہيں، بيوى بچوں اور اہل عيال اور رشتہ داروں اور محلہ داروں اور پڑوسيوں اور عام مسلمانوں اور غير مسلموں كو حكمت اور اچھے طريقہ سے دعوت دينى چاہيے، اور ان كے ساتھ بات چيت اور جدال بھى بہتر انداز ميں ہونا چاہيے.

اللہ تعالى ہميں اور آپ كو اپنے محبوب اور پسنديدہ اور رضامندى كے كام كرنے كى توفيق عطا فرمائے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتوں كا نزول فرمائے.

واللہ اعلم

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں