منگل 20 رجب 1440 - 26 مارچ 2019
اردو

كيا مہمان آنے والى عورتوں كو خوشبو پيش كرنا جائز ہے ؟

26347

تاریخ اشاعت : 13-07-2008

مشاہدات : 4557

سوال

سوال نمبر ( 7850 ) ميں بيان ہوا ہے كہ عورت كے ليے خوشبو لگا كر نكلنا جائز نہيں، تو كيا اگر مجھے كچھ عورتيں ملنے آئيں تو كيا اپنے علاقے كى عادت كے مطابق ميں انہيں خوشبو پيش كر سكتى ہوں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر وہ عورتيں آپ كے گھر سے نكل كر بازار نہ جائيں تو آپ انہيں خوشبو پيش كر سكتى ہيں، بلكہ وہ گاڑيوں ميں بيٹھ كر اپنے گھر واپس چلى جائيں، يا پھر گھر قريب ہوں كہ مردوں كے ساتھ اختلاط نہ ہو، اور كوئى اجنبى مرد ان كى خوشبو نہ پائے.

ليكن اگر معاملہ اس كے خلاف ہو، تو آپ ان كے سامنے معذرت كرتے ہوئے انہيں بتائيں كہ عورت كا خوشبو لگا كر اجنبى مردوں كے پاس سے گزرنا جائز نہيں؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے، اس ليے كہ اس ميں فتنہ و خرابى پائى جاتى ہے.

اللہ تعالى سب كو وہ اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جس ميں اللہ تعالى كى رضا و خوشنودى ہے، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا ہے. اھـ .

ماخذ: ماخوذ از: مجموع فتاوى و مقالات فضيلۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ ( 10 / 39 )

تاثرات بھیجیں