جمعہ 14 شعبان 1440 - 19 اپریل 2019
اردو

مغربی ممالک میں جائز اور حرام ملازمتوں کو پہچاننے کے لیے اصول و ضوابط

263615

تاریخ اشاعت : 21-07-2017

مشاہدات : 1669

سوال

مجھے حلال یا حرام ملازمت کے بارے میں کیسے معلوم ہوگا؟ یہاں جرمنی میں بہت سی حرام اور مشکوک ملازمتیں ہیں ، پھر میں نے پڑھا بھی ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ میں ہے جہاں پر شراب یا خنزیر کا گوشت فروخت ہوتا ہے تو وہاں پر کام کرنا حرام ہے، لیکن دو یا تین ہفتے قبل آپ سے ایک شخص نے کسی بیکری میں ملازمت کرنے کے بارے میں پوچھا تھا جو کہ کسی ایسے ہوٹل کے ماتحت ہے جس میں خنزیر اور شراب کی موجودگی کا احتمال ہے ، تو آپ نے انہیں کہا تھا کہ تمہارے لیے وہاں پر کام کرنے کی اجازت ہے؛ کیونکہ آپ کسی مسلمان ملک میں نہیں ہیں۔
تو مجھے یہ اصول کیسے معلوم ہو گا ؟ مجھے یہ کیسے پتا چلے گا کہ میں ضرورت مند ہوں یا مجبور ہوں اور میرا دوست جو بیکری میں کام کرتا ہے وہ صرف پنیر بریڈ میں رکھ کر دیتا ہے اور دیگر افراد جو وہاں کام کرتے ہیں وہ خنزیر کا گوشت رکھ کر دیتے ہیں، جبکہ میرا دوست خنزیر کے گوشت کو ہاتھ تک نہیں لگاتا، تو کیا اس کا وہاں پر کام کرنا جائز ہوگا؟
اور اگر وہ ہمیں گھر پر کھانے کی دعوت دے تو کیا ہم اس کے گھر جا کر کھانا کھا سکتے ہیں؟ حالانکہ اس کی بیوی انشورنس کمپنی میں کام کرتی ہے۔
مجھے یہ معلوم ہے کہ انشورنس حرام ہے، تو کیا اس ملازمت کی وجہ سے میں ان کے گھر نہیں جاتا تو میرا یہ اقدام صحیح ہو گا؟
اگر میرا دوست مجھے کوئی تحفہ دے تو کیا میں اس کا دیا ہوا تحفہ قبول کر لوں؟ اور جو تحفے میرے دوست نے مجھے کافی عرصہ پہلے دئیے تھے ان کا میں کیا کروں؟
اگر میں مذکورہ بالا جگہوں میں کام نہیں کرتا اور پوری کوشش کرتا ہوں کہ ایسی جگہ مجھے ملازمت ملے جہاں پر کوئی حرام، یا مشکوک یا مرد و زن کا مخلوط ماحول نہ ہو ، یا مجھے وہاں وقت پر نماز ادا کرنے میں کوئی تنگی نہ ہو ، تو کیا میرا ایسا کرنا صحیح ہے؟ مجھے اپنے بارے میں خدشات لگے رہتے ہیں کہ میں برائی میں ملوث نہ ہو جاؤں۔
آپ میری مدد کریں، اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

جائز کام کیلیے اصول یہ ہے کہ: کام کا میدان جائز ہو اور اس میں حرام کام پر تعاون شامل نہ ہو۔

اس میں جائز چیزوں کی تجارت اور انہیں کرائے پر دینا شامل ہے، مثلاً: کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنا، ادویات فروخت کرنا اور اسی طرح گھریلو ساز و سامان و دیگر اشیا فروخت کرنا ۔

اسی طرح اس میں  ملازمت بھی شامل ہے: مثلاً: تدریس کرنا، طب، انجنیئرنگ،  الیکٹریشن، لکڑی کا کام، دیگر چیزیں بنانے کیلیے کام کرنا اور اسی طرح بے شمار جائز ملازمتیں اس میں شامل ہیں۔

جبکہ حرام کاموں کی مثالیں یہ ہیں: سودی بینکوں میں کام کرنا،  ایسی انشورنس کمپنی میں کام کرنا جنہوں نے انشورنس کو اپنا کاروبار بنایا ہوا ہے، یا شراب منتقل کرنا، خنزیروں کی فارمنگ، سودی لین دین کی وثیقہ نویسی، جوّے کیلیے جگہیں تیار کرنا، یا ایسی چیزوں کو فروخت کرنا جن کے بارے میں غالب گمان یہی ہو کہ ان کا استعمال حرام چیزوں میں ہو گا، مثلاً: ڈاکوؤں کو اسلحہ فروخت کرنا یا اسی طرح کا کوئی بھی ایسا کام جو کہ حرام کام کے ارتکاب میں بلا واسطہ یا قریب ترین معاون ثابت ہو۔

جبکہ ایسی معاونت جو کہ بالواسطہ حرام کام پر اعانت شمار ہو لیکن معاونت کے وقت گناہ کیلیے تعاون کی نیت شامل نہ ہو تو پھر یہ معاونت حرام نہیں ہو گی، مثال کے طور پر: کسی شرابی، جوّے باز یا کافر  کو کھانا فروخت کرنا۔

اب اس صورت میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ شخص کھانا کھا کر توانائی حاصل کرے گا اور پھر اسی توانائی کی بدولت گناہ کرے گا؛ کیونکہ اگر دور کا تعلق رکھنے والی اعانت حرام ہوتی تو جائز ملازمتوں کے مواقع تو بالکل ہی معمولی رہ جاتے۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام یہودیوں کے ساتھ تجارتی لین دین  اور کرائے پر چیزیں بھی لیتے تھے، اور اس دوران صحابہ کرام یہ نہیں دیکھتے تھے  کہ یہودی اس تجارت سے فائدہ حاصل کریں گے اور ان کی تجارت بڑھے گی۔

لہذا اگر کوئی بھی کام بذات خود  صحیح ہو اس میں کسی حرام کام پر براہِ راست اعانت نہ ہو تو وہ جائز ہو گا۔

تو یہی وہ اصول اور ضابطہ ہے جسے ہم کسی کام کے جائز یا حرام ہونے کے متعلق یہاں پر ذکر کر سکتے ہیں ۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (247586) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اس بنا پر : اگر کوئی ایسی بیکری ہے جو حلال بیکری مصنوعات کے ساتھ حرام مصنوعات بھی فروخت کرتی ہے مثلاً: شراب وغیرہ سے تیار شدہ  بیکری مصنوعات  ، تاہم اس میں کام کرنے والا ایسا مزدور جو کہ حلال روٹی تیار کرتا ہے اور وہ کسی بھی انداز سے حرام چیزوں  کی تیاری میں مدد نہیں کرتا ، تو اس کیلیے شدید ضرورت کی بنا پر ایسی جگہ میں کام کرنا جائز ہو گا، البتہ وہ کسی اور جگہ کام کی تلاش میں رہے؛ کیونکہ کسی جگہ پر اگر برائی ہو رہی ہو تو اس سے روکنا اس پر واجب ہو جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بسا اوقات انسان ایسی حالت میں نہیں ہوتا کہ وہ روک سکے، تو ایسی صورت میں برائی والی جگہ سے چلے جانا اس کیلیے ضروری ہو جاتا ہے؛ اس کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے:
(وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعاً)
ترجمہ: اور اللہ تعالی تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کر چکا ہے کہ جب تم کسی مجلس والوں کو اللہ تعالی کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ مت بیٹھو! جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں، ورنہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو، یقیناً اللہ تعالی تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے [النساء:140]

اس آیت کی تفسیر میں ابو بکر جصاص رحمہ اللہ  "احكام القرآن" (2/ 407) میں لکھتے ہیں:
"اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ برائی کرنے والے کو برائی سے روکنا واجب ہے، نیز اگر برائی کا خاتمہ ممکن نہ ہو تو اظہار کراہت ، وہاں سے اٹھ کر چلے جانا  اور اس وقت مجلس سے دور رہنا جب تک برائی ختم ہو کر حالات معمول پر نہ  آ جائیں تو یہ اقدامات بھی برائی کو روکنے میں شمار ہوں گے" انتہی

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
" سونے کا غیر شرعی لین دین کرنے والی دکانیں جہاں سودی لین دین یا حرام کردہ حیلہ بازی، یا دھوکا دہی، یا دیگر غیر شرعی تجارت  کی جاتی ہے وہاں پر ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیا:
" سودی لین دین کرنے والوں، یا دھوکا دہی، یا دیگر حرام کام کرنے والوں کے پاس ملازمت کرنی حرام ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْأِثْمِ وَالْعُدْوَانِ )
ترجمہ:  اور تم گناہ اور ظلم و زیادتی میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو [المائدة:2]
اسی طرح فرمایا:
( وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعاً )
ترجمہ: اور اللہ تعالی تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کر چکا ہے کہ جب تم کسی مجلس والوں کو اللہ تعالی کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ مت بیٹھو! جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں، ورنہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو، یقیناً اللہ تعالی تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے [النساء:140]

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ( تم میں سے جو کوئی بھی کسی برائی کو دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس میں اس کی استطاعت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو پھر اپنے دل سے [برا جانے]) اور ان کے پاس کام کرنے والا شخص نہ تو اپنے ہاتھ سے برائی کا خاتمہ کرتا ہے اور نہ ہی اپنی زبان سے  بلکہ دل سے بھی برا نہیں جانتا تو اس طرح وہ شخص ان کے پاس کام کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرتا ہے" انتہی
"فقہ و فتاوى بیوع" ص 392

اس لیے آپ کے دوست کو ایسا کام تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس میں وہ برائی کا مشاہدہ نہ کر سکے۔

اور جہاں تک معاملہ ہے کہ وہ خنزیر کے قریب بھی نہیں جاتا اور نہ ہی کسی بھی اعتبار سے خنزیر کا گوشت دینے پر تعاون کرتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے؛ کیونکہ یہ تنخواہ اسے جائز بیکری مصنوعات بنانے پر ملتی ہے، تاہم برائی سے نہ روکنے کی وجہ سے وہ گناہگار ہو گا، اسی وجہ سے اسے کوئی کام تلاش کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

دوم:

ایسی انشورنس کمپنیاں جنہوں نے انشورنس کو اپنا کاروبار بنایا ہوا ہے ان میں کام کرنا حرام ہے؛ کیونکہ ان کمپنیوں کا کام سود، جوا بازی اور قمار پر مشتمل ہے۔

ہم اس کی تفصیلات پہلے سوال نمبر: (130761) اور اسی طرح (205100) میں بیان کر چکے ہیں۔

ایسا مال جس کے کمانے کا طریقہ حرام ہو تو وہ صرف کمانے والے کیلیے حرام ہے، لہذا کوئی دوسرا شخص اس سے کسی جائز مد مثلاً: بطور تحفہ یا نفقہ وغیرہ وصول کرے تو یہ دوسرے شخص کیلئے جائز ہو گا۔

اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (114798) اور اسی طرح : (246623) کا جواب بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

اس بنا پر اگر آپ نے اس کی دعوت پر کچھ کھایا یا کسی انشورنس کمپنی میں کام کرنے والے شخص سے آپ نے کوئی چیز بطور تحفہ قبول کی تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔

سوم:

رزق حلال کے ذرائع بہت زیادہ ہیں ، لیکن بسا اوقات انسان کو خوب تلاش کرنی پڑتی ہے، البتہ یہ بات یقینی ہے کہ جو شخص  اللہ تعالی سے ڈرے تو اللہ تعالی اسے عنایت بھی فرماتا ہے اور اس کی مدد بھی کرتا ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
(وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً)
ترجمہ: اور جو شخص اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کیلیے پریشانی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے امید بھی نہیں ہوتی، اور جو اللہ تعالی پر توکل کرے تو وہی اسے کافی ہے، بیشک اللہ تعالی اپنے فیصلوں کو لاگو کرنے والا ہے، یقیناً اللہ تعالی نے ہر چیز کیلیے مقدار مقرر کر دی ہے۔[الطلاق:2-3]

لہذا آپ اختلاط اور برائی سے خالی جائز ملازمت کے حصول کیلیے  مکمل کوشش کریں، ایسی ملازمت کے حصول میں پرہیز گاری  اختیار کرنا قابل تعریف عمل ہے؛ کیونکہ جو شخص مشکوک جگہوں سے احتراز کرتا ہے تو وہ اپنا دین اور عزت وآبرو کو محفوظ بنا لیتا ہے، اور جو شخص مشکوک جگہوں میں ملوث ہو جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ حرام امور میں بھی ملوث ہو جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص شبہات سے بچتا ہے تو وہ اپنا دین اور عزت آبرو محفوظ بنا لیتا ہے، اور جو شخص شبہات میں پڑ جائے تو وہ حرام کام میں پڑ جاتا ہے ، بالکل اسی چرواہے کی طرح جو [کسی کی ]چراگاہ کے آس پاس اپنی بکریاں چرائے تو عین ممکن ہے اس کی بکریاں [کسی کی] چراگاہ میں منہ مار لیں) بخاری: (52) مسلم: (1599)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (جس چیز میں شک ہو اسے چھوڑ کر ایسی چیز اپناؤ جس میں شک نہیں ہے) ترمذی: (2518) نسائی: (5711)، ترمذی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ: یہ حدیث حسن  صحیح ہے۔ نیز البانی نے اسے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: اسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں