جمعرات 18 صفر 1441 - 17 اکتوبر 2019
اردو

ایک لڑکی کو چوری کرنے کی عادت ہے نماز روزے نہیں پڑھتی تھی اب توبہ کرنا چاہتی ہے۔

سوال

سوال: مجھے جب سے ہوش آیا ہے میں اس وقت سے چوری کی لت میں پڑی ہوئی ہوں، مجھے اس غلطی کا پتا بھی تھا، چنانچہ کچھ دن ایسے بھی آتے کہ میں چوری کرنے سے باز آ جاتی اور اللہ سے معافی مانگتی لیکن پھر دوبارہ چوری کرنے لگتی، میری اس عادت کی وجہ سے میرے اپنے سسرال والوں کے ساتھ جھگڑے بھی ہوئے، تو اس کے بعد میں نے اٹل فیصلہ کر لیا کہ میں آئندہ ایسی حرکت نہیں کروں گی، پھر تقریباً ایک سال تک میں نے چوری نہیں کی، لیکن پھر دوبارہ سے یہ کام شروع کر دیا اور چھوٹی چھوٹی چیزیں چوری کرنا شروع کر دیں، جو کہ بڑھتے بڑھتے بڑی چیزیں چوری کرنے تک پہنچ گئی، اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کس طرح اس لت سے اپنی جان چھڑا سکتی ہوں؟ میں نے اس بارے میں بڑے اچھے اچھے خطاب سنے ہیں میں نے تقریباً ہر حربے کو آزما کر دیکھ لیا ہے، اب مجھے یہ بھی علم نہیں ہے کہ میں نے کس کس کی پنسل چوری کی یا پیسے اٹھائے یا جوس چوری کیا یا چاکلیٹ اٹھائی، مجھے یہ یاد ہے کہ میں نے اپنے خاوند کے پرس سے پیسے چوری کیے تھے، اسی طرح اپنی ایک بڑی اچھی سہیلی کے بیگ سے پیسے چوری کیے ہیں، امی اور ابو کے پیسے بھی چوری کیے ہیں، میں نماز نہیں پڑھتی تھی اور نہ ہی رمضان کے روزے رکھتی تھی، مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کتنی بار اپنا روزہ خراب بھی کیا، میں انہیں گن نہیں سکتی، تو کیا میں کافر ہو چکی ہوں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مجھے بخشش مل جائے؟ میں اللہ کے قریب کیسے ہو سکتی ہوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

آپ نے متعدد ایسے حرام کاموں کا ذکر کیا ہے جو آپ نے کیے ہیں، ان میں  سب سے سنگین معاملہ نماز چھوڑنے کا ہے؛ کیونکہ کلی طور پر نماز چھوڑ دینا کفر ہے، فقہائے کرام کا راجح موقف یہ ہی ہے، مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (5208) کا جواب ملاحظہ کریں۔

چوری کرنا کبیرہ گناہ ہے، اسی طرح روزہ چھوڑنا اور روزے کو عمدًا بغیر کسی عذر کے توڑنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔

اس لیے آپ پر واجب یہ  ہے کہ آپ اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی توبہ کریں، وقت پہ نماز ادا کریں، رمضان  کے روزے رکھیں اور چوری کرنا چھوڑ دیں۔

اگر اللہ نے چاہا یہ سب آپ کے لئے آسان ہو گا اور جب آپ رب العالمین کی طرف سچے دل سے توبہ کریں گی اور اپنے نفس کے ساتھ سنجیدہ ہو کر  ہمت کے ذریعے ان گناہوں کو چھوڑنے کا عہد کریں گی  تو اللہ آپ کی مدد فرمائے گا۔

اس کام کیلیے درج ذیل  امور بھی معاون  ہو سکتے ہیں:

1- یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے، اور اپنے بندوں کو توبہ کی دعوت بھی دیتا ہے:
 (وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)
ترجمہ: اور تم سب کے سب اے مومنو اللہ کی جانب رجوع کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ [النور:31]

پھر توبہ کرنے پہ اللہ تعالی  تائب شخص کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهاً آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَاماً يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَاناً إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً)
ترجمہ: اور اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہیں پکارتے نہ ہی اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ زنا کرتے ہیں  اور جو شخص ایسے کام کرے گا ان کی سزا پاکے رہے گا۔ [68] قیامت کے دن اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا اور ذلیل ہو کر اس میں ہمیشہ کے لئے پڑا رہے گا۔ [69] ہاں جو شخص توبہ کرلے اور ایمان  لے آئے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ [الفرقان:68 - 70]

اس لیے توبہ کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہ کریں، یہ مت دیکھیں کہ گناہ کتنا سنگین ہے، کیونکہ کوئی بھی گناہ اللہ تعالی کے سامنے بڑا  نہیں ہے، اللہ تعالی تو نہایت بخشنے والا ، رحم کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، اللہ تعالی تو کفر و شرک جیسے کبیرہ ترین گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے تو چھوٹے کیوں نہیں، اللہ تعالی گناہ تھوڑے ہوں یا زیادہ ، بڑے ہوں یا چھوٹے سب معاف  فرما دیتا ہے۔

2- آپ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو توبہ کرنے تک زندگی کا موقع دیا اور آپ کی سانس چل رہی ہے، اللہ تعالی نے آپ کی روح قبض نہیں فرمائی، اس لیے توبہ کرنے میں ذرہ برابر بھی تاخیر مت کریں۔

3- آپ یہ دیکھیں کہ  آپ نے کس قسم کے قبیح ترین  اور سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اور دوسری طرف یہ بھی دیکھیں کہ  یہ سب گناہ اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناشکری بھی ہے، اللہ تعالی نے آپ نے پر نعمتیں کی ہیں اور  آپ نے اس کے مقابلے میں ان  نعمتوں کی ناشکری کی ہے، تو یہ بات کوئی مومن کیسے تصور میں لا سکتا ہے کہ اللہ تعالی اسے اطاعت گزاری سے دور گناہوں پہ مصر دیکھے !

4- آپ اچھی سہیلیوں کا انتخاب کریں، اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ نیکیوں میں صرف کریں؛ کیونکہ انسان کیلیے بری صحبت اور  فراغت سے زیادہ ضرر رساں کچھ نہیں ہے۔

5- آپ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ آپ کو ہدایت سے نوازے، آپ کی شرح صدر فرما دے، اور آپ کو نیکی پہ ثابت قدم رکھے۔

یہ بات  ذہن نشین کر لیں کہ جو نمازیں اور روزے آپ کے رہ گئے ہیں  ان کی قضا واجب نہیں ہے، لیکن آپ کثرت سے نوافل ادا کریں۔

اور جو پیسے آپ نے اٹھائے ہیں انہیں واپس کرنے کی استطاعت ہو تو اسے واپس کرنا لازمی اور ضروری ہے، اس کیلیے آپ تخمینہ لگائیں کہ کتنے پیسے آپ نے اٹھائے تھے؟ پھر آپ کسی بھی طریقے سے انہیں رقم پہنچا دیں، لیکن کسی کو اس کے بارے میں مت بتلائیں۔

اگر آپ لیے ہوئے پیسوں  کی ادائیگی سے عاجز آ جائیں اور پیسے ادا نہ کر سکیں ، اور اسی حالت میں آپ کی وفات ہو جائے تو آپ کی سچی توبہ کے باعث اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کو معاف فرما دے اور آپ کی جانب سے حقداروں کے حقوق ادا کر دے۔

چونکہ آپ کو چوری کی یہ عادت بچپن سے ہے  تو ہم مشورہ دیں گے کہ  کسی معتمد ماہر نفسیات معالج سے رابطہ کریں؛ تا کہ آپ کے علاج کا طریقہ متعین ہو سکے کہ آپ کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے؟ اگر ادویات کا سہارا بھی لینا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو معاف فرمائے، آپ کی حالت سنوار دے اور اپنی اطاعت پہ آپ کی مدد فرمائے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں